مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 155 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 155

۱۵۲ لکھنے سے بیشتر جو تشریح فرمائی ہے وہ بھی قابل غور ہے۔فرماتے ہیں۔دعائیں چھ طرح قبول ہوتی ہیں اور اس طرح کی کوئی دُعا بھی رد نہیں ہوتی۔ا۔یا تو وہ لفظا ہی قبول ہو جاتی ہے۔۲۔یا اس کی جگہ آخرت کا بدلہ اور نعمت مل جاتی ہے۔۳۔یا اتنی ہی مقدار میں کوئی بڑی تقدیر دُور ہو جاتی ہے۔۲۔یا بطور عبادت محسوب ہو جاتی ہے۔٥- یا دنیا میں ہی ایک کی جگہ دوسری بہتر خیر مل جاتی ہے۔- یا اگر وہ دعا بندہ کے لئے مضر ہو تو منسوخ کر دی جاتی ہے اور یہ نا منظوری بھی اجابت اور رحمت کا رنگ رکھتی ہے۔یعنی بندہ ضرور اور تکلیف سے بچ جاتا ہے۔۱۳ ترک دنیا کے بارے میں آپ نے متعدد نا صحار نظمیں لکھی ہیں اور ہر نظم میں ایک نئے انداز سے ترک لذات کی طرف توجہ دلائی اور رغبت دلانے کی سعی مشکور کی ہے۔مندرجہ ذیل منظومات اسی قبیل سے ہیں نصیحت از الوصیته» بشارات ان الوصیت ترک دُنیا کے معنی ترک فضول ہیں ، دنیا کا انجام دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو۔واقعاتی نظموں میں آپ کی ایک مزاحیہ نظم بھی شامل ہے جو راشن بندی سے تعلق رکھتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے۔قادیان میں ۱۹۳۳ء میں رمضان میں ایک تولہ کا راشن ، اس نظم کے مطالعہ سے زمانہ جنگ کی تکالیف و مشکلات کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔حضرت میر صاحب کے قلم حقیقت رقم نے اس واقعہ کو بھی تاریخ میں محفوظ کر دیا۔یہ نظم آپ کی ہمہ گیر طبیعت کے چہرے سے نقاب کشائی کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔قادیان کے آریہ بھی اسی قبیل کی نظم ہے۔حضرت میر صاحب نے طنز و مزاح کے خار تار میں بھی سمند فکر کی جولانیاں دکھائی ہیں لیکن لطف یہ ہے کہ شرافت دستانت کے دامن سے کسی خار کو الجھنے کی اجازت نہیں دی۔آپ نے اپنا مافی الضمیر بھی ادا کر دیا۔لیکن ایسی کہنہ مشقتی اور احتیاط کے ساتھ