مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 132
مولا کریم سے والہیت و شیدایت کا پتہ مل سکتا ہے۔الغرض آپ ایک سچے عاشق الہی تھے اور فنافی اللہ اور بقا باللہ کی منازل طے کر کے تقائے الہی کی عظیم الشان نعمت حاصل کر چکے تھے۔اور ہماری موجود دو نسل اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے آپ کا وجود بہترین نمونہ اور روشن مشعل ہے۔میں نمونہ اور دوشی مشعل کی روشنی میں ہم اپنے نور ایمان میں بہت کچھ اضافہ کر کے خود بھی عشاق الہی کی صفت میں شامل وماخل ہو سکتے ہیں۔محترم چوہدری محمد اکبر علی صاحب کھتے ہیں سہ کا واقعہ ہے کہ بندہ حافظ آباد میں تھا۔اور حضرت میر صاحب گوجرانوالہ میں سول سرجن تھے۔میرا ایک دوست راجہ خان پونیس کانسٹیبیل گو جرانوالہ میں لگا ہوا تھا۔اتفاقاً اُس نے مجھے بلا بھیجا۔گوجرانوالہ میں جا کہ معلوم ہوا کہ وہ ہسپتال میں بیمار پڑا ہے۔بندہ وہاں گیا تو دیکھا کہ وہ سخت بیمار ہے۔اُس نے کہا کہ آپ بھی احمدی ہیں۔اور ہمارے سول سرجن بھی احمدی ہیں۔رخصت درکار ہے۔اب میں گھبرایا کہ میر صاحب میرے واقف نہیں اور ایک اعلیٰ عہدہ پر ہیں شاید ملاقات بھی نہ ہو۔بندہ میر صاحب کی کوٹھی پر گیا اور اندر اپنا پتہ بھیجا بہت ہی جلد خود میر صاحب تشریف لائے۔نام دریافت کر کے فرمانے لگے۔کیا آپ شام کا کھانا کھا ہیں گے۔میں نے نفی میں جواب دیا۔پھر فرمایا کہ آپ نے ہی حضرت مسیح موعود کی صداقت میں ایک رسالہ بدر کامل چودھویں کا چاند تحریر فرمایا ہے۔میرے خیال میں اس وقت وہ مطالعہ کر کے ہی نکلے تھے۔میری ہاں پر آپ مجھ سے بغلگیر ہوئے۔اور اس قدر خوش ہوئے کہ گویا کوئی فرمانہ ہاتھ لگا ہے۔اور اسی وقت ہسپتال میں تشریف لے گئے اور بہار سپاہی کو دس یوم کی رخصت منظور کرادی۔آپ حقیقی رنگ میں احمدیت کے سچے عاشق تھے۔الفضل ۱۲ اگست ۲۱۹۴۷)