مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 133
محترم جناب اخوند فیاض احمد صاحب ابھی میں چوتھی یا پانچویں جماعت میں تھا۔ابا جی ایک سال کی لمبی رخصت لے کہ بمع اہل و عیال قادیان جاکر رہے۔تو ایک مرتبہ فخر الدین ملتانی کی دکان پر اباجی نے مجھے حضرت ماموں جان کی خدمت میں پیش کیا آپ کے الفاظ کا مفہوم جیسے ابھی تک یاد ہے جو آپ نے اس وقت کہے تھے کہ میں اس کو باپ کی نگاہ سے دیکھوں یا ڈاکٹر کی نگاہ سے۔چونکہ اباجی میری کمزوری صحت کی وجہ سے حضرت ماموں جان کا مشورہ میری صحت کے متعلق چاہتے تھے اس لئے ابا جی نے جواب دیا۔باپ اور ڈاکٹر دونوں کی نگاہ سے نے اور مجھے یاد ہے کہ حضرت ماموں جان نے اپنا ایک کان میرے دل کی جگہ پر لگا کہ میرا معائنہ کیا تھا۔پھر جب میں دسویں جماعت میں قادیان میں پڑھتا تھا۔اور اباجی ۱۹۳۹ ء میں پیشن لے کر قادیان آگئے۔اور کچھ عرصہ ہمارے نانا جان خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی کے پہلے مکان میں بمع اہل وعیال مقیم رہے اور پھر ہم سب محلہ دارا نفصل میں اپنا مکان بن جانے پر وہاں آگئے۔تو حضرت ماموں جان سے ملاقات کے موقعے ملتے رہے۔190 میں جب میں نے میٹرک پاس کیا اور نہ صرف تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے طلبہ بلکہ قادیان سنٹر بھر میں اول آیا۔تو کالج میں داخلے اور مضامین کے انتخاب کے لئے اباجی نے حضرت امام الثانی اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت ماموں جان سے مشورے کئے۔مجھے یاد ہے جب فزکس اور ریاضی کے انتخاب کے متعلق حضرت ماموں جان سے عرض کیا گیا کہ حضرت امام الشاقی نے اس انقلاب کو پسند فرمایا ہے تو آپ نے بے ساختہ فرمایا کہ جو حضرت صاحب نے فرمایا ہے اسی میں برکت ہے۔