مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 131
۱۳۰ اور بعض مستقل کتابوں کی شکل میں طبع ہو چکا ہے۔اس سے بھی جماعت کا علمی طبقہ بے خبر نہیں۔قربانی وایثار کی یہ روح اور خدمت دین کا یہ بے پناہ جذبہ سب ان کے عشق الہی پر دال ہے۔الغرض آپ اللہ تعالیٰ کی محبت میں گداز رہتے تھے اور اپنے محبوب ازلی کے خیال میں ہر آن مشغول آپ کا منظوم کلام اس بات کا شاہد عادل ہے کہ آپ مولا کریم کے کس قدر عاشق زار اور محبت بے قرار تھے۔آپ کی نظموں کا مجموعہ بخاروں کے نام سے دو حصوں میں طبع ہو چکا ہے جس میں حصہ دوم کو آپ نے کئی سو روپیہ کی لاگت سے چھپوا کہ شائع کر دایا۔اور سوائے کچھ نسخوں کے جو دوست احباب میں مفت تقسیم کئے گئے باقی کتاب پیشر کو بطور امداد مفت بخش دیئے۔اس مجموعہ کلام میں آپ کی اکثر نظمیں عشق الہی کے عطر سے بھر پور نظر آئیں گی۔خود کتاب کا نام بیمار دل بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے۔کہ اس کے لکھنے والا ایک بیقرار عاشق ہے جو اپنے دل پر درد کا بنجاران رنگین ترانوں کے ذریعہ نکال رہا ہے چنانچہ۔آپ نے خود سر دو کتاب کی تعریف میں مندرجہ ذیل قطعہ نظم فرمایا ہے۔بخار دل رکھا ہے نام اس کا کہ آتشدان دل کا یہ دھواں ہے کسی کے عشق نے جب پھونک ڈالی تو منہ سے نکلی یہ آہ وفغاں ہے لگاتی آگ ہے لوگوں کے دل میں ہماری نظم بھی آتش فشاں ہے اپنی سر نظم میں آپ نے اپنے مولا کریم سے اپنی محبت والفت کا اظہار کیا ہے بنجار دل کے ہر دو حصص کے پڑھنے سے آپ کے جذبہ عشق کا کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اور آپ کی