مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 130 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 130

۱۲۹ کی روح هر وقت آستانہ خداوندی پر آب زلال کی طرح بہتی رہتی تھی کسی وجود کے عاشق اہلی ہونے کا سب سے بڑھ کر ثبوت یہ ہے کہ عاشق اپنے ازلی ابدی محبوب حقیقی کی خاطر اپنی جان مال اولاد معزت سب کچھ قربان کر ڈالے اور احکام ایندی کے ماتحت اپنے تن من دھن کو ئی دے۔اور دنیا کے کسی مرحلہ میں اُسے لغزش نہ آئے اور دنیا کی کسی مصیبت کے وقت اس کا قدم صراط مستقیم سے نہ ڈگمگا جائے۔اور حالت عصر سیسر میں ثابت قدم اور قومی الایمان رہے۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی طفیل حضرت میر صاحب قبلہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عشق اہلی کے یہ تمام مراحل طے فرمائے تھے اور وہ عشاق الہی کی صف اول میں شامل و داخل ہو گئے تھے۔اپنے سنِ شعور سے لے کر وفات تک انہوں نے اللہ تعالٰی کی راہ میں کسی قسم کی جانی، مالی بدنی، سانی عالی و قالی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور خد اکے پاک دین اور سلسلہ حقہ کی دامے درمے قدمے سخنے مرتے دم تک خدمات بجالاتے رہے اور ان خدمات کے سلسلہ میں ایسے ثابت قدم رہے کہ بطور مثال پیش کئے جاسکتے ہیں۔آپ نے سلسلہ کی سر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور اپنی ملازمت کے زمانہ اور اس کے بعد نیشن کے عرصہ میں اپنا مال بے دریغ خدمت سلسلہ کی خاطر چندوں کی صورت میں دیا۔آپ موصی تھے اور اپنی وصیت انتہائی باقاعدگی کے ساتھ ادا فرماتے رہے اور ماہوار پیشن ملتے ہی سب سے پہلے اپنا حصہ وصیت ادا فرمانے کا تردد کرتے تھے۔خود معذور ہوتے تو کسی کے ہاتھ وصیت کی رقم فوراً داخل خرما نہ کرانے کا بندوبست کرتے۔چنانچہ آپ نے مرض الموت کے زمانہ میں پچھلے ماہ کی وصیت خاکسار کے ذریعہ داخل کرائی۔آپ نے اپنے وجود یا جود سے جس قدر سلسلہ حصہ کو ہر رنگ میں فائدہ پہنچایا۔اس سے جماعت احمدیہ کا ہر فرد آگاہ ہے آپ نے سلسلہ کی جس قدر قلمی خدمات سرانجام دی ہیں۔اور میں قدر اعلی علمی لڑ پھر چھوڑا ہیو صد با مضامین کی صورت میں زیب جرائد سلسلہ ہے۔