مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 116
۱۱۵ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیعت سے مشرف ہوا۔تو اس کے بعد کبھی کبھی میر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا۔بیعت کے بعد پہلی دفعہ جب اُن سے ملا ہوں۔تو فرمانے لگے کہ مجھے آپ کے بعیت سے مشرف ہونے پر بڑی خوشی ہوئی ہے۔میری ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ یہاں آجائیں۔سوالحمد للہ کہ آپ آگئے۔قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو بڑی محبت تھی۔اگر اپنے کسی عزیز ترین شخص کی بھی کوئی بات اسوہ رسول کے خلاف دیکھتے تو اُسے سمجھاتے۔اور اگر باوجود کوشش کرنے اور سمجھانے کے وہ اپنی بڑی عادت کو نہ چھوڑتا۔تو اس سے قطع تعلق کر لیتے۔آپ کا دماغ پڑا صاف تھا۔اور ہماری کے آخری ایام تک یہی حالت قائم رہی۔ان کی وفات سے دو دن پہلے آپ کا ایک عزیز ڈاکٹر احسان علی صاحب کی دوکان پر کلسیم کا ٹیکہ لگوانے آیا۔باتیں کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ یہ طلاح مجھے میر صاحب نے بتایا ہے۔چونکہ چند دن سے آپ کو بیماری کی شدت کی وجہ سے سخت تکلیف اور تقریباً بیہوشی کی حالت رہتی تھی۔اس لئے مجھے تعجب ہوا اور پوچھا کون سے میر صاحب نے آپ کو یہ علاج بتایا۔تو کہا۔اپنے میر صاحب کی بیمار پرسی کے لئے میں گیا تھا۔آپ آنکھیں بند کئے ہوئے پڑے ہوئے تھے۔جب مجھے باتیں کرتے ہوئے سنا تو دھیمی آواز میں فرمانے لگے۔کہ اُسے کہو چھونا کھائے چونا گویا ایسی حالت میں بھی جیب اس عزیز کی باتیں سنیں تو فوراً بیاری کی تشخیص بھی کر لی۔اور علاج بھی بتا دیا عرضی بڑی تو ہوں کے انسان تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور نہیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔در روزنامه الفضل قادیان ۲۵ جولائی ۱۱۹۴۷)