مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 92 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 92

41 کے حصول میں ہر تکلیف مردانہ وار برداشت کرنے کی نہایت دل نشین الفاظ میں تلقین کرتے ہوئے فرمایا : جو کرم بورهم - جو شفقت جو مروت اور جو احسان مجھے اپنے خداوند خدامی نظر آیا۔بخدادہ ہر کسی دوسرے میں نظر نہیں آیا۔ایس ایسے خدا کے نقاد سے اور اس کے رو بر دوش ہونے سے ڈرنے کے کیا معنی " جب دیکھا جائے کہ یہ الفاظ اس انسان کے قلم سے نکلے۔جو خوشی خوشی موت سے ہمکنار ہوا جیسے موت کسی مرحلہ پر ایک لمحہ کے لئے بھی ہراساں نہ کر سکی۔اور حسین نے یہ تحریر اس لئے قلم بند فرمائی۔کہ جب وہ شاداں و فرماں موت کی گھائی سے گزر جائے۔تو اس کی طرف سے اس کے دوستوں اور عزیزوں تک پہنچا دی جائے۔تو یہ ایک ایسی اہم دستاویز بن جاتی ہے۔جسے ہر احمدی کو ہر وقت اور خاص کر اس وقت جبکہ خدا تعالٰی کے حضور اپنی جان پیش کر دینے کا موقع میسر آرہا ہو۔پیش نظر رکھنا چاہیئے۔اور کسی رنگ میں بھی موت کا ڈر یا خوف اپنے پاس تک نہ آنے دینا چاہیئے۔کیونکہ بالفاظ حضرت میر صاحب مرحوم و مغفور موت ایک سیڑھی ہے۔جو انسان کو نچلی منزل سے بالا خانہ تک پہنچاتی ہے۔موت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد چونکہ جسد بے روح کے لئے کچھ اور مرحلے بھی اس دنیا میں باقی تھے۔اس لئے ان کے بارے میں بھی حضرت میر صاحب رائٹر تعالٰی آپ سے راضی ہو) نے اپنی خواہش اور تمنا کا اظہار کیا۔اور الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اس پیلر سے بندہ کی ان تمناؤں کو بھی اپنے فضل سے اسی طرح پورا فرمایا میں طرح وہ چاہتا تھا۔اپنی نعش کو غسل دینے کے متعلق حضرت میر صاحب نے یہ خواہش ظاہر فرمائی اور خدا تعالیٰ کے غنی کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے فرمائی کہ