مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 91
4۔پوشی اور مغفرت فرمائے بھین۔میں نے دنیا میں سال قیام کیا نہ یعنی دو شعبان شکله بجری مطابق دار جولائی اشارہ دو شنبہ کے روز پیدا ہوا اور میں نے اس جہان فانی کو چھوڑا۔ناظرین اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے قبر کے دکھوں حشر کی تکالیف اور پل صراط کے مصائب اور دوزخ کے عذابوں سے محفوظ کی کے جنت الفردوس میں محض اپنے فضل اور رحم اور کریم سے جگہ عنایت فرمائے اور اپنی نعمتوں سے بہرہ وافر عطا فرمائے۔آمین۔ان سطور کے ایک ایک لفظ سے یہ ظاہر ہے کہ یہ اعلان نہ صرف نہایت سکون دل اور اطمینان قلب کے ساتھ لکھا گیا۔بلکہ موقع شناسی سے بھی خوب ہی کام کیا گیا۔دُعا کی اور نہایت جامع اور ضرورت کے عین مطابق دعا کی درخواست اس انداز سے کی گئی ہے کہ آپ کو جاننے والا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کا دل کھیل کر پانی نہ ہو گیا ہو اور آپ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے مضطربانہ دعا نہ نکلی ہوگی۔ایسے کی ایسی بیشمار دعائیں شرف قبولیت سے کیوں محروم رہی ہوں گی ایسے وقت کی حضرت میر صاحب ایسے ولی کے لئے کی گئیں۔مذکورہ بالا اعلان کے بقیہ حصہ دنیوی زندگی۔موت اور پھر آخرت کی زندگی کے فلسفہ پر نہایت طالقانہ کلام کرنے کے بعد اپنی قلبی کیفیت کا نقشہ یوں کھینچا ہے میں نے دنیا میں تکالیف اور مصائب اور بیاسیاں سب دیکھے مگر ان میں بھی خدا کے فضل اور اس کی رحمت کو ہر قدم پر محسوس کیا ہے۔اب جبکہ بقائے الہی کا مقام قریب قریب ہوتا جاتا ہے میں کیونکہ آگے بڑھتے یا انتقال مقامی سے ڈر سکتا ہوں۔" اس سلسلہ میں عزیزوں اور دوستوں کو خوشی خوشی موت قبول کرتے اور بقائے الہی