مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 710 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 710

4-9 ظفر اللہ خان صاحب کے چہرے نظر آئے پہلے دھوکہ ہوا کہ یہ یہاں کہاں ؛ شاید میرا خواب ہے یا دہم۔مگر جب وہ ہنسے اور بولے تو مجھے یقین آیا کہ فرشتے نہیں بلکہ انسان ہیں۔لیں میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور سیدھا چوہدری صاحب کی اس کا رمیں لاہور تک آ گیا۔یہ سب لوگ سہنسی خوشی کی باتیں کر رہے تھے۔مگر اس مجیب اور بہ وقت آسمانی مدد سے میر اول شکر کے جذبات سے آتا لبریز ہو گیا تھا کہ سارے راستے میں بڑی مصیبت سے اپنے تئیں ضبط کرتا آیا۔ورنہ روتے روتے شاید میری چیخیں نکل جائیں۔لوگ ان باتوں کو اتفاقی سمجھیں مگر جس پر گزرتی ہوں اس کے دل سے پوچھنا چاہیئے۔کہ آقا کے احسان غلاموں پر کس طرح ہوتے ہیں اور تکلیفوں سے وہ ان کو کسی طرح نجات دیتا ہے اور کسی کسی رنگ میں اور یہ لطف ہمیشہ اپنی کو آتا ہے جو کسی واقعہ یا حادثے کو دنیا میں اتفاقی نہیں سمجھتے بلکہ ان کا ایمان ہوتا ہے۔کہ بلا مشیت اور ارادہ الہی کے کوئی بات بھی دنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔واقعات کو اتفاقی کہہ دینا اور It happened by chance کا نقرہ منہ پر لانا صرف دہریوں کا کام ہے یا ان لوگوں کا جو بہت سی باتوں کو تصرف اہلی سے باہر یقین کرتے ہیں۔ہیں اتفاق ، اور Chance کا خیال بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ پھر ان کا دل کہتا ہے کہ جب سو میں سے پچاس با تیں اتفاقی بغیر کسی ارادے اور مشیت کے خود بخود قانون قدرت میں واقعہ ہوتی رہتی ہیں تو باقی پچاس بھی ایسی ہی مان لو اور تمام انتظام کو اتفاقی سمجھ کر کسی مدیر بالا رادہ، علیم، لطیف، خیر ستی کا انکار ہی کر دو اور اپنے سر سے ایک خواہ مخواہ کا بوجھ اتار پھینکو سویہ بھی ہے ایک وجہ مہر یہ ہونے کی اور علاج اس کا یہی ہے کہ تم کبھی یوں نہ کہو کہ فلاں بات اتفاقاً ہو گئی ہے یا فلاں حادثہ اتفاقاً پیش آگیا ہے بلکہ ہمیشہ یوں کیا کردو کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا یا اللہ تعالیٰ نے یوں چاہا۔تب خدا کے فضل سے تم منفی دہریت کی آگ سے محفوظ رہو گے جو آج کل دنیا پر مسلط ہو رہی ہے۔