مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 708
6۔6 اب اس سے بڑھ کر لو یا ایک سال اس جگہ جہاں میں متعین تھا ایک سخت عالمگیر قسم کی مصیبت آئی۔اس میں خدا تعالیٰ کی حکمت سے ایسے اسباب امتحان کے پیدا ہو گئے کہ سب سے زیادہ میرا مالی نقصان ہوا اور صحت کو سخت دھکا لگا۔اور کام نے مجھے توڑ دیا۔لیکن بعض لوگوں نے میری باتوں کو بڑے رنگ میں مشہور کیا اور میری بعض باتوں کی رپورٹ طلاء القوم میں سے ایک بڑے آدمی کی معرفت نامناسب کرائی گئی وہ میرے مخالفین کی پشت پر تھا۔اس نے بعض اختیارات میرے سلب کر لئے اور اپنے لوگوں کے سپرد کر دیئے جو ایک شریف آدمی کی توہین کے طریقے تھے۔وہ سب اختیار کئے گئے ہیں ڈر کے مارے دُعا بھی نہیں کرتا تھا کیونکہ میں نے اس مصیبت میں امتحان کا رنگ محسوس کر لیا تھا۔مگر بہر حال گو لفظی سوالی نہ تھا صورت سوالی ضرور تھا۔آخر پڑے تونغا کے بعد یوں ہوا کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے میری طرف سے خود بخود میرا وکیل بنا کہ کھڑا کر دیا اور اس نے بغیر میرے علم اور اطلاع کے ایک ایسا ایڈریس حاکم وقت کے سامنے پیش کیا کہ حاکم نے میرا نام لے کہ میرے کام کی تعریف اس ایڈریس کے جواب میں کی پھر شام کو ایک دوسرے حاکم نے مجھے کہا کہ معاملہ ہم پر کھل گیا ہے۔کہ یہ لوگ پشت کی طرف سے تم پر چھری چلا رہے تھے۔سرکار نے مجھے نقصانات کا کچھ معاوضہ بھی دیا اور خطاب بھی اور میرے خدا نے بہت بہت بہت زیادہ مجھ پر انعام فرمایا۔اور ان لوگوں کی پارٹی ٹوٹ گئی اور و منتشر کر دیئے گئے۔ہمیں قادیان میں رخصت پر آیا پھر میں اپنی بیوی کی بیماری کے علاج کے لئے لا مور گیا۔جس روز ہم نے قادیان واپس آنا تھا اس سے ایک دور در پہلے سارا شہر بلکہ سارا صوبہ زلزلہ کی زد میں آگیا۔وہ بڑا آدمی جو جوان اور مٹائٹا تندرست تھا اور میں کی طاقت پر ان لوگوں نے ریشہ دوانیاں کی تھیں اور میری ذلت کے در پلے ہوئے تھے۔عین اسی روز اس نے ایک بڑی بھاری دعوت کی اور جب وہ ختم ہوئی تو آدھ گھنٹہ بعد بے چارا دم کے دم میں رخصت ہوا۔سو خدا مجھے قادیان لے گیا اور میرا سالانہ جلسہ جو میں نے تین سال سے (الا ما شاء الله) کبھی ناغہ نہیں کیا تھا اس سے جبر یہ مجھے جدا کیا کہ چل موقعہ پر چل میں تجھے کیا بات دکھاتا ہوں۔