مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 675
۶۷۴ بھی جائیں۔مگر آئندہ بچوں کی نسل کے لئے اس بیماری کا علاج معلوم ہونے سے اور لاکھوں بچے بھی جاتے ہیں۔امریکہ میں زرد بخار کا علاج اور ٹی کا معلوم کر نے کے لئے کئی ڈاکٹروں نے خود اپنے آپ کو وہ بیماری لگا کہ ہلاک ہونے دیا مگر مقصد حاصل کرلیا۔یوں علم میں بھی ترقی ہوئی اور خدا کی حکمتیں بھی ظاہر ہوئیں۔اسی طرح بعض بچے بھی آئندہ ہونے والے بچوں اور نسلوں کے لئے قربان ہو کر یا ڈاکٹروں کے زیر تجربہ اور زیر مشتق رہ کر مفید بن جاتے ہیں ہیں یہ نسل انسانی کا فائدہ ہے جو مقدم ہے انفرادی فائدہ پر۔اور اس میں علم و حکمت کی ترقی ہے اور خدا کا حکم ہونا ثابت ہوتا ہے۔موت کے علاوہ بعض بیماریاں خو د رحمت ہوتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے آئندہ زیادہ مہلک قسم کی بیماریاں اس بیمار کو نہیں ہوتیں۔مثلا اگست 19ء میں جس جس کو انفلوئنزا ہوا۔وہ سب بچے گئے۔پھر انہیں اکتوبرش اللہ کا انفلوئنزا نہیں ہوا۔جو نہایت درجہ ملک تھا۔پس پہلی بیماری رحمت تھی۔اسی طرح ویکسی نیشن یعنی Coeur pox کی بیماری برداشت کر لینے کے بعد چپ یعنی Small pox نہیں ہوتی ہو سخت مہلک ہے۔بچے سر مجاری میں بڑوں کی نسبت کم تکلیف محسوس کرتے ہیں۔کیونکہ ان کے اعصاب اس وقت پختہ نہیں ہوتے۔۔- بیماریاں اور تکالیف خدا تعالیٰ کی جلالی صفات کا مظہر ہیں۔اگر صرف جمالی صفات والا ہی خدا ہوتا۔تو وہ کامل خدا نہ ہوتا۔اور خدا وہی ہے جس کے قبضہ میں آرام اور دکھ دونوں ہی ہوں تبھی تو قرآن میں آیا ہے کہ مَا لا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ (الفرقان (۵۶) یعنی مشرک ایسے معبودوں کو پوجتے ہیں جو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ ضرر کامل اختیارات والا خدا وہی ہے جو دونوں کا مالک ہو۔انسان بھی انہی دو باتوں کی وجہ سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔درتہ اگر دنیا میں تکالیف نہ ہوں تو نہ انسان کے اخلاق ظاہر ہوں۔نہ وہ خدا کی حکمتوں کا کھوج