مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 672 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 672

पढा کی ایک شاخ ہے۔کیونکہ وہ بندہ کے فائدہ کے لئے ہی ہے۔نہ کہ اپنے کسی حصہ کی تسکین کے لئے۔-JA الازِرُ وَانِيَةٌ ولد أخرى (النجم : ۳۹) تریکیہ : ( جو یہ ہے کہ) کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔کہ کہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بچہ کیوں والدین کے لئے قربان ہو۔حالانکہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام دنیا کے والدین اور عزیز ان کا مال اور محنت اور توجہ سب ان بچوں کے لئے قربان کئے جارہے ہیں۔اس صورت میں اگر کبھی کبھی ہو بھی ان کے لئے قربان کر دیا جائے۔تو کیا ہرج ہے ؟ بلکہ ضروری ہے۔بچوں کی تکالیف میں ان کو اور دوسروں کو کیا فائدے ہیں ؟ اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ رحیم کریم خدا چھوٹے اور معصوم بچوں پر مصائب اور تکلیف کیوں وارد کرتا ہے۔حالانکہ وہ اپنے میں ومَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبدِ (ق) (۳۰) کہتا ہے۔ترجمہ ہو اور نہ ہیں اپنے بندوں پر کسی قسم کا نظلم کرنے والا ہوں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی لڑکے کے ماں باپ یا استاد اس کی بہتری اور فائدہ کے لئے اسے ماریں یا تکلیف دیں۔تو کیا لوگ ان کو ظالم کہیں گے یا خیر خواہ ؟ یہی ہمارا جواب ہے۔ہر تکلیف ظلم نہیں ہوتی۔خدا کی طرف سے آئی ہوئی تو تمام تکالیف مصلحت حکمت اور فائدہ کے لئے ہوتی ہیں۔اور مر جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔بلا استثناء ہر متنفس نے مرتا ہے۔کوئی آگے جائے گا۔کوئی چھے۔یہ تو اس دُنیا کے لئے مقدر ہو چکا ہے اور مرنے کے بغیر انسان کے اعلی جو سر نہیں کھلتے۔جس طرح ماں باپ کے ہاں سے رخصت ہوئے بغیر لڑکی کے اصل جو ہر نہیں کھلتے۔کیونکہ اس عالم سے پر سے ایک اصلی اور دائمی عالم ہے۔جس کے