مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 646 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 646

۶۴۵ اضح ہو۔کہ انسان کے لئے صرف اسی دنیا کی زندگی نہیں ہے۔بلکہ اس کا اصل مقصود امینی غیر متد نعمتوں کے گھر کا حصول ہے۔اور دنیا جو ہے اس میں اُس کے لئے امتحانات ابنتنا ، فتن مصائب رکھے گئے ہیں۔جن کو صبر سے برداشت کرنے اور وفاداری سے طے کرنے کے بعد وہ نفس مطمئنہ آخر کار اصلی جنت پالیتا ہے۔عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جو آیت قرآن میں آتی ہے کہ۔الا ان اولياء الله لا خَوْنَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (يونس :۲۳) توجه و سنو! جو لوگ اللہ سے سچی محبت رکھنے والے ہیں اُن پر نہ کوئی د خوف ( مستولی ہوتا) ہے اور نہ وہ چمگین ہوتے ہیں۔یہ ثابت کرتی ہے کہ اویا و اللہ پر کبھی کوئی خوف اور حزن بالکل آتا ہی نہیں مگر یہ خیال قابل اصلاح ہے کیونکہ ولَنَبْلُونَكُمْ بِشَيء مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوع۔۔۔۔۔(البقره ) ترجمه ، اور ہم تھیں کسی قدر خوف اور بھوک (ہے)۔۔۔۔۔ضرور آنا ئیں گے۔والی آیت کے خلاف ہے۔یہاں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تم پر خوف اور مجھوک اور موتیں اور ناکامیاں وارد کر کے تمہارا امتحان لیتے رہیں گے۔پس خوف اور غم تو ضرور دنیا کی زندگی میں مومنوں کے لئے مقدر ہے۔اور پہلی آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ یہ خوف اور مصائب تقل نہیں ہوں گے۔اور ایسے نہیں ہوں گے کہ مومن کی کمر سمت توڑ دیں۔اور ان کے ساتھ کئی بشارات بھی ہوں گی۔جو مومن کے دل کو مضبوط و مطمئن رکھیں گی۔یہ معنی کہ مومن کو خوف و غم ہوتا ہی نہیں بالید است غلط ہے کیونکہ اگر ان کا احساس ہی مٹ جائے تو پھر میر کیا اور اس کا اجر کیسا ؟ پس یہ چیزیں عارضی طور پر آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔مگر اطمینان اور بشارات مستقل طور پر مومن کے ساتھ لگی رہتی ہیں۔مومن کو اپنے خدا کے قریب میں ایسا ہی اطمینان ہوتا ہے۔