مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 645 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 645

۶۴۴ اطمینان قلب اطمینان کے معنے ہیں بھروسہ کرنا۔امن میں رہنا، اچھے کانا۔پیٹھ خمدار کرنا۔آرام کرنا خاموشی اور تسکین پانا پس اطمینان قلب کے معنی ہیں کسی بات یا حالت پر دل کا آرام و سکین پالینا اور اس کو انشراح حاصل ہو جانا اور جب یہ حالت کسی کو خدا تعالیٰ کی ذات اور مذہب اور رسول اور حشر اور عاقبت کے متعلق حاصل ہو جاتی ہے اور احساس لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ولا هُمْ يَحْزَنُونَ کا اُسے مل جاتا ہے۔تو ایسے شخص کے نفس کو نفس مطمئنہ کہہ سکتے ہیں۔یعنی اس میں شکوک وشبہات اور اضطراب کی حالت باقی نہیں رہی۔بلکہ اس نے اپنی عقل علم اور تجربہ سے وہ درجہ یقین کا حاصل کر لیا ہے جس کے بعد بے اطمینانی رخصت ہو جاتی ہے۔ایسے انسان پر ہدایت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔خدا تعالے سے تعلق کے آثار شروع ہو جاتے ہیں۔نقد جنت کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔اور وہ تمام باتیں جن کو اس دنیا میں علامات وصل الہی کہا جاتا ہے۔اپنا ظہور شروع کر دیتی ہیں۔اور وہ مومن ایک یقینی صراط مستقیم پر چلنے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں آخر کار دوسرے اور مستقل عالم میں جنت میں چلا جاؤں گا۔اس خیال سے اس کا قلب مطمئن اور دل خوش رہتا ہے خواہ راہ نہیں اُسے عارضی تکالیف بھی پیش آئیں۔لیکن منزل مقصود سامنے نظر آتی رہتی ہے۔اور اس وجہ سے اس کا شوق سفر بھی برابر قائم رہتا ہے۔یہاں تک کہ آخر کار وہ واقعی طور سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔