مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 597
۵۹۶ یعنی نہ نبی اور نہ دوسرے مومن مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں۔اور ندان کا جنازہ پڑھیں۔خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔کیونکہ جو کفر پر مر جائے اس کے متعلق تو پورے طور پر ظاہر ہو گیا۔کہ وہ جہنمی ہے۔ان آیات سے جب جنازہ کی ممانعت ایسی واضح ہے۔تو پھر کیا سبب ہے کہ غیر احمدی اصحاب کے جنازہ کے بارے میں اختلاف ہے۔اور خود حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے بھی بعض خاص حالات میں نرمی کی تعلیم دی ہے۔تو اس کی کیا وجہ تھی۔اور پھر اب وہ نرمی کیوں دکھائی نہیں جاتی۔اس کا کیا سبب ہے۔سینیٹے اول یہ کہ الہی سلسلے آہستہ آہستہ اور بتدریج شکل اختیار کرتے ہیں۔اسی طرح ان کے احکام بھی بتدریج استحکام پکڑتے ہیں۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے زمانہ میں بعض باتیں اس طرح فیصل شدہ نہیں تھیں۔جیسے اب ہوگئی ہیں۔کیونکہ خلفاء کی تمکین دین کا حصہ باقی تھا۔جو ان کی معرفت پورا ہوتا ہے۔اور میں طریقہ پر وہ چلائیں وہ بھی الہی طریقہ ہی ہوتا ہے۔کیونکہ جو دین ان کا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کی تسکین کرتا ہے۔پس خلفائے راشدین جس امر کو جماعت کے لئے مقرر کر دیں۔وہی موجب قرآن مجید درست ہے۔اور اپنی کا دین چلے گا۔غیر مبالعین کا دین نہیں چلے گا۔اور اسی کا نام سبیل المومنین بھی ہے۔حضرت مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو) بھی پہلے عام مسلمانوں کا جنازہ پڑھا کرتے تھے۔پھر آپ نے ترک کر دیا۔لیکن اس پر بھی کسی کسی آدمی کو کبھی کبھی بطور شاذ اجازت ملی۔حالانکہ مسئلہ نبوت اور مسئلہ کفر و اسلام صاف فرما چکے تھے۔اسی اثناء میں آپ کی وفات ہو گئی۔اور آپ کے بعد آپ کے خلیفہ نے اس مسئلہ کے متعلق یہی فیصلہ کیا کہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کا اصلی منشاء جنازہ کے متعلق ہی تھا۔کہ بالآ خروہ ترک کر دیا جائے۔اس لئے جماعت اب قطعی ترک کو اختیار کرے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔۲۔رہی یہ بات کہ حضرت مسیح موعود را آپ پر سلامتی ہو نے خود کیوں نہیں ایسا قطعی فیصلہ