مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 527
۵۲۶ جیسے الہام ہوا۔اس نے حق کی طرف رجوع کیا حق نے اس کی طرف رجوع کیا۔کسی نے اس کی بات مانی نہ مانی اُس نے اپنی بات سُنادی اور سفنے والوں نے اس کے چہرہ کو دیکھ کر یقین کیا کہ یہ سچا ہے۔ہم کو غم کھا رہا ہے اور یہ بے فکر اور بے نظم مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا ہے۔اس طرح کہ گویا حق تعالیٰ نے آنھم کے معاملہ کا فیصلہ اسی کے اپنے ہاتھ میں دے دیا۔اور طرح پھر اس نے انھم کا رجوع اور بیقراری دیکھ کہ خود اپنی طرف سے مہلت دے دی اور اب اس طرح خوش ہے جس طرح ایک دشمن کو مغلوب کر کے ایک پہلوان پھر محض اپنی دریا دلی سے خود ہی اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جاؤ ہم تم پر رحم کرتے ہیں ہم مرے کو مارنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔لیکھرام کی پیش گوئی پوری ہوئی مخبروں نے فورا اتہام لگانے شروع کئے۔پولیس میں تلاشی کی درخواست کی گئی۔صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس یکا یک تلاشی کے لئے آموجود ہوئے لوگ الگ کر دیئے گئے اندر کے باہر باہر کے اندر نہیں جاسکتے۔مخالفین کا یہ زور کہ ایک حرف بھی تحریر کا مشتبہ نکلے تو پکڑ لیں مگر آپ کا یہ عالم کہ وہی خوشی اور مسرت چہرہ پر ہے اور خود پولیس افسروں کو لے جائے جا کر اپنے لیتے اور کتابیں تحریریں اور خطوط اور کو ٹھریاں اور مکان دکھا رہے ہیں۔کچھ خطوط انہوں نے مشکوک سمجھ کر اپنے قبضہ میں بھی کر لئے ہیں۔مگر یہاں وہی چہرہ ہے اور وہی مسکراہٹ ، گویا نہ صرف بیگناہی بلکہ ایک فتح مبین اور اتمام محبت کا موقعہ نز دیک آنا جاتا ہے۔یہ خلاف اس کے باہر جو لوگ بیٹھے ہیں ان کے چہروں کو دیکھو وہ ہر ایک کنسٹیبل کو باہر نکلتے اور اندر جاتے دیکھ دیکھ کر رہے جاتے ہیں۔ان کا رنگ فق ہے ان کو یہ معلوم نہیں کہ اندر تو وہ جس کی آبرو کا انہیں حکم ہے خود افسروں کو بلا بلا کہ اپنے لیتے اور اپنی تحریریں دکھلا رہا ہے اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ایسی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب حقیقت پیش گوئی کی پورے طور پر کھلے گی اور میرا دامن ہر طرح کی الائش اور سازش سے پاک ثابت ہوگا۔غرض یہی حالت تمام مقدمات، ابتلاؤں مصائب اور مباحثات میں رہی اور یہ وہ اطمینان