مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 494 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 494

۴۹۳ فتح مكه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لئے ماہ رمضان میں دس ہزار صحابیوں کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہوئے۔یہ آپ کی ہجرت کے ہم سال کے بعد کا واقعہ ہے۔جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو قریش کو معلوم ہوا کہ اس وقت ابو سفیان حکیم بن حزام اور بدیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاسوسی کے لئے نکلے۔جب یہ لوگ موضع مر الظہران پہنچے۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں بے حد آ گئیں روشن ہیں۔بدیل نے کہا کہ یہ مینی عمر قبیلہ نے جلائی ہوں گی ابوسفیان کہنے لگے کہ بنی عمر کے آدمی اس سے بہت کم ہیں۔اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چوکیداروں نے اُن کو پکڑلیا اور آپ کے پاس لے آئے۔ابو سفیان مسلمان ہو گئے۔جیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو آپ نے حضرت عباس کم سے فرمایا۔کہ ابو سفیان کو ایسی جگہ لے جا کر کھڑے ہو۔جہاں سے سہارا لشکر اچھی طرح نظر آئے۔چنانچہ حضرت عباس ان کو ایک مناسب موقعہ پر لے کر کھڑے ہو گئے۔اور ان کے سامنے سے آنحضرت صلی اللہ علی کلم کی فوج کے دستے گزرنے شروع ہوئے۔جب پہلا قبیلہ گزرا تو ابوسفیان نے پوچھا۔عباس یہ لوگ کون ہیں۔انہوں نے کہا یہ قبیلہ فضا ر ہے۔ابوسفیان نے کہا مجھے ان سے کچھ واسطہ نہیں۔پھر قبیل جھینہ گزرا۔تو ابو سفیان نے وہی بات کہی۔پھر قبیلہ سعد اور اس کے بعد قبیلہ سلیم گور ہے۔اس پر بھی ابوسفیان نے رہی بات کہی۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ایک ایسا قبیلہ گزرا ہے ابوسفیان نے پہلے نہ دیکھا تھا۔انہوں نے عباس سے پوچھا کہ یہ کون ہیں۔حضرت میائی نے کہا یہ انصاری ہیں۔اور ان کا جھنڈا سعد بن عبادہ کے پاس ہے۔اتنے میں سعد بن عبادہ ہوئے کہ اے ابو سفیان آج کا دن کفار کے قتل کا دن ہے۔آج کعبہ میں لڑائی ملال ہو جائے گی۔ابو سفیان نے کہا۔اچھا مصیبت کا دن آیا۔پھر ایک سب سے چھوٹی جماعت ان کے سامنے سے گذری جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مہاجرین اصحاب تھے۔اور آنحضرت