مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 446 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 446

۴۴۵ عدل فاطمہ نام ایک خاندانی عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چوری کی۔اور چوری کی سزا یہ تھی کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔کئی لوگوں نے آپس میں کہا۔کہ یہ عورت بڑے معزز خاندان کی ہے۔کوئی جرأت والا اس کی سفارش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے جا کر کرے تو اچھا ہو۔مگر کسی کو اس بات کی ہمت نہ پڑتی تھی۔اسامہ آپ کے بہت پیارے تھے۔انہوں نے کہا۔اچھا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گا۔جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کی تو آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا۔اور فرمانے لگے۔کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہے کہ جب کوئی بڑا آدمی پوری کرتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔اور اگر کوئی غریب آدمی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے ہیں مگر میں ہر گز ایسا نہیں کر سکتا۔خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو ہمیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔شکر گذاری ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی انصاری عورتوں اور بچوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا۔آپ انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔اور فرمایا۔خدا گواہ ہے کہ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہو۔اصحاب مسقہ کی حالت اور آپ کی ایک کرامت حضرت ابو سرية اصحاب صفہ میں سے تھے۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں پڑے رہتے تھے۔اور وہیں سوتے تھے۔دن کو کچھ مزدوری مل گئی تو کر لی۔ورنہ