مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 443 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 443

آپ نے فرمایا۔کیا تم دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ سکتے ہو۔عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا۔کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو۔اُس نے عرض کیا نہیں۔آپؐ چپ ہو رہے اور وہ شخص بھی وہیں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر میں ایک شخصی ٹوکری کھجوروں کی لایا اور آپ کی خدمت میں پیش کی۔آپ نے فرمایا۔کہ وہ روزہ توڑنے والا کہاں ہے۔وہ بولا یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا۔لو یہ کھجوریں اٹھالو۔اور خیرات کر دو۔اس نے کہا یا رسول اللہ کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں ؟ خدا کی قسم مدینہ کے ایک سرے سے دوسرے ہے تک ایک گھر بھی میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی یہ بات سن کر ہنسے اور فرمایا کہ اچھا جاؤ۔اپنے بال بچوں کو ہی کھلا دو۔ترتیب ہجرت مدینہ کے صحابیہ بیان کرتے ہیں۔کہ ہجرت سے پہلے اسلام سکھانے کے لئے ہمارے پاس مصعب اور ابن ام کلثوم نابینا آئے تھے پھر ہجرت کا حکم ہوا۔تو بلال ہوں سند اور عمارہ ان کے بعد حضرت عمرہ میعہ نہیں مہاجرین کے تشریف لائے۔پھر خود آنحضرت صل الله علیه وسلم بعد حضرت ابو یکرہ اور ایک غلام کے بپھر حضرت علی آپ کے تشریف انے کے بعد آئے۔پھر تو یہ سلسلہ چل نکلا۔مدینہ والوں نے کبھی ایسی خوشی نہیں منائی تھی جیسی آپ کے تشریف لانے پر سنائی۔یہاں تک کہ مدینہ کی لونڈیاں خوشی کے مارے گھر گھر کہتی پھرتی تھیں کہ اللہ کے رسول ہمارے ہاں آئے ! اللہ کے رسول ہمارے ہاں آئے 11