مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 430 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 430

۴۲۹ جاؤں ! یہ کہہ کر انہوں نے باقی چھوارے اپنے ہاتھ سے پھینک دیئے اور تلوار سونت کر دشمنوں پر جاپڑے اور برا بر لڑتے رہے۔یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور جنت میں داخل ہو گئے۔رضی اللہ تعالی عنہ عجیب منبتی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں لوگوں سے پوچھا۔اچھا کوئی ایسا مبتی بتاؤ۔جس نے ایک وقت کی نماز بھی پڑھی ہو۔حاضرین خاموش ہو گئے۔اور جواب ز دے سکے۔اس پران صحابی نے شنایا کہ ایک شخص تھے عمرہ نام وہ مدینہ میں رہتے تھے۔مگر مسلمان نہ ہوئے تھے۔حالانکہ ان کے اور سب رشتہ دار مسلمان ہو چکے تھے۔ایک دفعہ وہ کہیں باہر سفر پر گئے کہ اُحد کی لڑائی پیش آگئی۔اور مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے نکل کرہ احمد کے مقام پر آگیا۔اور لڑائی شروع ہو گئی۔اتنے میں وہ عمرہ بھی سفر سے واپس آگئے اور مدینہ میں آتے ہی پوچھا۔کہ میرے چچا کے بیٹے کہاں ہیں۔لوگوں نے کہا۔کہ اُحد میں پھر انہوں نے اپنے اور رشتہ داروں اور دوستوں کے متعلق پوچھا۔معلوم ہوا کہ وہ سب اُحد میں گئے ہیں۔ریٹن کر انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے فوجی لباس پہنا۔ہتھیار لگائے اور گھوڑے پر سوار ہو کر سیدھا اُحد کا رخ کیا۔مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر کہا۔اسے عمر د۔تم کا فر ہو۔اس وقت ہم سے الگ رہو۔انہوں نے جواب دیا میں اب کا فرنہیں رہا۔ہمیں ایمان نے آیا ہوں۔یہ کہہ کر انہوں نے کفار کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور خوب جان توڑ کر لیے۔جب جنگ ختم ہو گئی۔تو یہ بھی مردوں میں سے سسکتے ہوئے ہے۔مگر ابھی جان باقی تھی۔اس لئے انہیں اُن کے رشتہ دار مدینہ میں اُٹھا لائے۔کسی نے ان سے اس وقت سوال کیا۔کہ عمرو۔تم اپنی خواہش یا مطلب کے لئے لڑے تھے۔یا صرف اللہ اور رسول کے لئے۔انہوں نے جواب دیا کہ جب میں مدینہ پہنچا تو کافر تھا۔پھر یک دم مجھے ایک جوش آیا۔ایمان میرے اندر داخل ہو گیا اور