مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 429
۴۲۸ یعنی کثرت سے مشرکین رسم دختر کشی میں مبتلا تھے۔اسی طرح حضرت جعفر نے سجاشی کے روبرو دختر کشی کا اپنی قوم قریش میں ہونے کا اقرار کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جاہل بتو ہی نہیں بلکہ عرب کے چوٹی کے قبیلے بھی اس میں مبتلا تھے۔شہیدلڑکا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے بدر کی طرف جانے لگے۔تو آپ نے مسلمانوں کی مختصر سی جماعت کا جائزہ لیا۔اس وقت ایک مسلمان لڑکا بھی شہادت کے شوق میں فوج میں آملا جب معائنہ ہونے لگا۔تو وہ لڑکا لوگوں کے بیچھے چھپتا پھرتا تھا۔اس کے بڑے بھائی نے پوچھا۔یہ تم کیا کر رہے ہو۔وہ کہنے لگا۔میں اس لئے چھپتا ہوں کہ کہیں آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم مجھے چھوٹا سمجھ کر واپس کر دیں۔حالانکہ میں لڑائی میں شریک ہونا چاہتا ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کرے۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُسے دیکھ لیا۔اور فرمایا تم ابھی چھوٹے ہو۔لڑائی میں نہ جاؤ۔وہ بچارا رونے لگا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اجازت دے دی۔اس کی تلوار بہت لمبی تھی۔آپ نے اسے اپنی ایک چھوٹی تلوار اس کے قد کے مطابق عنایت کی۔پھر وہ بدر کے جنگ میں ہی شہید ہو گیا۔اور اس کی خواہش پوری ہوئی۔اس وقت اس کی عمر 14 سال کی تھی۔بس کیا اتنا ہی فاصلہ ہے یدر کا میدان جنگ گرم تھا۔کہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان ضد تعلے کے راستہ میں مارا جائے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ایک صحابی عمیر اس وقت صف میں کھڑے چھوارے کھا رہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنتے ہی کہنے لگے۔واہ وا نہ ہے نصیب کیا میرے اور جنت کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہے۔کہ میں مارا