مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 428 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 428

۴۲۷ کو بھی کسی قافلہ والے سے دستیاب ہو گئے۔ان کو پتھروں سے نہیں لیا۔پھر میں نے اپنے اونٹ کی فصد لی اور خون لے کر ان سب چیزوں کو ایک ہانڈی میں ڈال کر پکایا اور خوب مزے سے کھایا۔زمانہ جاہلیت میں یہی کھانا سب سے لذیذ سمجھا جاتا تھا۔ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ خون کا مزا کیسا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا میٹھا سا ہوتا ہے۔دختر کشی ایک دن ایک صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی جاہلیت کے زمانہ کا قصہ بیان کرنے لگے کہ یا حضرت میری ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔میں نے عرب کے دستور کے موافق اسے زندہ درگور کرنا چاہا جنگل میں جا کر ایک گڑھا کھودا۔پھر لڑکی کو وہاں لے گیا۔اور گڑھے میں دھکیل کر جلدی جلدی اس پر مٹی ڈالنے لگا۔یہاں تک کہ دو وب گئی ، جب میں مٹی ڈال رہا تھا۔تو وہ معصوم آیا آیا کہ کر جیتی تھی اور مجھ سے ہی معد مانگتی تھی۔مگر میں نے بھی دل کو پتھر کر لیا۔اور جب وہ بالکل دب گئی۔تب گھر کو واپس آیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ قصہ سنا تو آپ کے آنسو بے اختیار جاری ہو گئے۔اور فرمایا کہ اس قصہ کو پھر دوسراؤ۔انہوں نے دوبارہ بیان کیا۔آپ سنتے جاتے تھے۔اور آپ کے آنسوپ شپ گرتے جاتے تھے۔اکثر لوگ لکھتے ہیں۔کہ عرب میں دختر کشی کی رہیم عام نہ تھی۔کہیں کہیں اور بہت کم جاری تھی۔مگر قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وكذلك زين لكثير مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ ستگار هم (الانعام : ۳۸) ترجمہ اور اور اسی طرح مشرکوں میں سے بہتوں کو ان کے شریکوں نے ان کے ہلاک کرنے کے لیے اور اُن کے دین کو اُن پر مشتبہ کرنے کے لیے اپنی اولاد کو قتل کرنا خوبصورت کر کے دکھایا تھا۔