مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 399 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 399

٣٩٨ الفاظ نہیں آتے کہ بقدر چالیس آیات حضور یا ہم لوگ پڑھا کرتے تھے اور ایک جگہ تو آیا ہے کہ حضور رات بھر نماز میں آیت ان تعذ بهم عبارك۔۔۔۔۔۔۔۔الاية پڑھتے رہے۔پس سورتوں اور آئینوں کا تعین تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی کرا دیا تھا۔باقی تحریر میں بچوں اور مجھیوں کے لئے آمیتوں کے نشان اگر کسی نے بعد میں لگا دیئے تو اس کا کیا ہرج ہے۔بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی آیات کو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے کہ ان اوقاف کی بابت کسی کو شبہ رہ ہی نہ سکتا تھا۔اور فاتحہ کی تو ایک ایک آیت حضور نے صحابہؓ کو الگ الگ گنوائی ہے۔چنانچہ فرمایا ہے کہ جب بندہ کہتا ہے اَلحَمدُ لِلَّهِ رَب العالمین تو خدا یوں فرماتا ہے اور جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمنِ الرَّحِیم تو خدا یوں فرماتا ہے۔اور جب کہتا ہے مالك يوم الدین تو خدا یوں فرماتا ہے۔غرض اسی طرح حضور نے فاتحہ کی سب آیتیں گئی ہیں۔پس آپ کا اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آیتیں نہ تھیں۔میری سمجھ سے باہر ہے۔آیتیں تو تمھیں صرف نشانات آیت نہ تھے۔اور وقف یعنی آیت سے کسی قدر کم شہر نے کا علم بھی سب کو تھا۔ہاں نشان وقف و آیت وغیرہ عجمیوں کے لئے بعد میں لکھنے تجویز کئے گئے۔سو اس سے اصل مطلب میں کیا فرق پڑ گیا؟ ابتدائی زمانہ میں تو قرآن مجید پر زیر زیر بھی نہ تھے۔تو کیا یہ کہہ دیا جائے کہ اس وقت قرآن کسی اور طرح کا پڑھا جاتا تھا۔اسی طرح قرون اولیٰ کے معرب ہر آیت پر پورا ٹھہرتے تھے اور وقف پر اس سے کم وقفہ دیتے تھے۔سواب بھی یہی حال ہے اور جب بھی یہی حال تھا۔زیادہ ٹھہرنے کا نام آیت اور کم شہرنے کا نام وقف ہے۔(4) ایک صاحب اعتراض فرماتے ہیں کہ بسم اللہ کی آیت سورۃ فاتحہ کا جزو نہیں -