مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 381
چنانچہ صراط مستقیم کے متعلق تو اس میں دو آیتیں واضح بھی موجود ہیں۔-١ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ - عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - رئيس (۵۰۴) ترجمه ، یقینا تو رسولوں میں سے ہے (اور سیدھے راستہ پر رہے؟ وَانِ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمُ - ريس (۲۲) توجہ ، اور صرف میری عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ضرورت اور رسالت کی ضرورت اور اس کا فائدہ۔دشمنوں پر مذاب انعامات الہلی۔برزخ ، حشر، اہل حیت، اہل دوزخ خلق آخر و غیرہ کا یعنی صراط مستقیم اور یوم الدین دونوں کا ذکر ہی اس سورۃ کے مرکزی نقطے ہیں۔الر کا مقطعہ کامل آیت نہیں ہے اس لئے اس کی تفسیر اللہ اور رب کے لفظوں سے ہی ہوتی ہے۔یہ کئی سورتوں پر آتا ہے۔مگر اس کی را کے متعلق یہ خیال کہ اس سے رحمن مراد لیا جائے یا رحیم یارب مجھے یہ بات صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں محمد ہوئی۔کہ ان سب سورتوں میں کئی کئی مضامین ہیں۔لیکن ایک اللہ والی سورۃ ایسی بھی ہے جس میں صرف ایک ہی مضمون ہے یعنی یوسف۔پس اس سورۃ کے مضامین نے یہ تعین کرا دیا کہ یہ سورۃ تمام کی تمام ربوبیت الہی کے بیان میں ہے۔یوسف علیہ السلام کا بچپن میں رویا دیکھنا۔پھر بھائیوں کا سلوک۔پھر خدا کی ربوبیت جو کنوئیں میں، فاقہ ہیں ، جنگل میں اور عزیز مصر کے ہاں اور قید خانہ میں اور بادشاہ کے دربار میں اور ملازمت ہیں۔ہر حال اور ہر ترقی کے وقت اس کے ساتھ رہی اور اس کی ربوبیت کرتی رہی۔اس سے معلوم ہوتا ہے یہ را رب کی ہے اور کسی لفظ کی نہیں۔پھر دیکھا تو اور سب الر والی سورتوں میں بھی ربوبیت کے ذکر کو نمایاں طور پر پایا۔اس لئے ان الفاظ کا یہ نتیجہ نکالا کہ یہ سورتیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذکر سے مخصوص ہیں اور الحمد کی آیت ۲ کی جزو ہیں۔