مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 380
۔٣٧٩ چاہتی ہے۔اگر مستعد اور شوقین لوگ اس روشنی میں توجہ کریں تو کئی مفید باتیں نکال سکتے ہیں۔بہر حال یہ ایک سرسری خاکہ ہے جو فی الحال میری نظر میں ہے۔الة من العَمْتَ عَلَيْهِمْ - ضالين اور مَغْضُوبِ علم کا ذکر ہے۔یعنی فاتحہ کی آیت نمبرے چنانچہ بقرہ میں یہ تفسیر نہایت نمایاں طور پر ظاہر ہے۔اور مومنین انبیاء اور آدم کے حالات نیز ابلیس اہل کتاب کا فروں اور منافقوں کی کرنتھوں سے یہ سورۃ اوّل سے آخر تک بھری پڑی ہے۔سورہ شوریٰ کی حمد ہ عشق ہ میں حم والی آیات ۴،۳،۲ کے علاوہ (یعنی اسمائے الہی کے علاوہ) ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ امر اهْدِنَا الصراط المستقيم که والی دو آیتیں یعنی نبیرہ اور 4 مزید اس میں داخل ہے۔جس مضمون بھی کرتی ہے کیونکہ اس کے آخر میں یہ آیت آتی ہے کہ وَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ - صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّهِ۔صير الأمور و الشوری ۵۲۰۵۳) ترجمہ اور تو یقیناً لوگوں کو سیدھے راستہ کی طرف لا رہا ہے اللہ کے راستہ کی طرف جو اس کا بھی مالک ہے جو آسمانوں میں ہے اور اس کا بھی جو زمین میں ہے۔سنو اسب باتیں فلہ ہی کی طرف جاتی ہیں ریعنی تمام باتوں کی ابتداء اور انجام خدا ہی کے ہاتھ میں ہے) اور سورۃ کا مضمون بھی ایسا ہی کہتا ہے۔لیکن کا مقطعہ دو حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ہی سے یوم الدین یعنی آیت نمبر ۴ اور اس سے صراط مستقیم والی آیت نمبر 4۔چنانچہ اس سورۃ میں جو قرآن مجید کا دل کہلاتی۔ایمان کے اصولوں اور آخرت اور حشر ما بعد الموت ہی کا ذکر ہے۔