مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 379
- ۳۷۸ حال آپ مقطعات کے حرف کے معنی لے کر کہ سکتے ہیں کہ قطعہ فاتر کی فلاں آیت کا منقطعہ ہے۔کیونکہ آیت میں اس کے حروف موجود ہیں اور سورۃ میں اس کے مطالب موجود ہیں۔مثلا لحم کے حروف سے معلوم ہوا که به حروف الحمد لله۔رحمن۔رَحيمُ۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّين - مستقيم - الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - مَغْضُوبِ عَلیم میں پائے جاتے ہیں۔پھر آپ حم والی چھ سورت نہیں یعنی مومن ، سجدہ ، زخرف ، ذخان - جاثیہ۔احقاف سب کو پڑھ جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ سب سورتیں ملی ہیں اور اکثر حقیہ ان کا توحید اور صفات و اسماء و افعال الہلی سے بھرا پڑا ہے۔پس معلوم ہوا کہ محمد کی سورتوں میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحمنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِین تک کا بیان اکثر ہے۔باقی جو لفظ ہم نے جمع کئے تھے ان کا کوئی نمایاں ذکر نہیں ہے۔پس حمد اختصار ہوا۔سورۃ فاتحہ کی آیات نمبر ۲ - ۲۰۲ کا اور لیں۔اسی طرح آہستہ آہستہ آپ سب کی حقیقت معلوم کر سکتے ہیں۔ق کے متعلق کسی قسم کا جھگڑا ہی نہیں کیونکہ یہ فاتحہ میں صرف ایک ہی جگہ لفظ مستقیم میں ہی آیا ہے۔اور اس سے سوائے مُستقیم کے لفظ کے ساری آیت اهْدِتا الصراط المستقیم کی مراد نہیں لی جاسکتی۔کیونکہ قی کے بعد آیت نہیں ہے بلکہ وقف ہے۔م اور طہ کا تعین بھی بہت ضروری ہے۔کیونکہ یہ لفظ صراط کا اختصار ہے اور صِرَاطَ المُستَقِيمَ اور حِسَاطَ الَّذِيْنَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمُ والی آیتوں میں آتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ جب کسی مقطع میں آتی ہے۔تو فاتحہ کی آیت نمبر والی صراط مراد ہوتی ہے۔اور اگر حق کسی مقطعہ میں آئے تو آیت نمبرے والی صراط مراد ہوتی ہے۔غرض اسی طرح صوف کو ایک طرف دیکھ کر اور سورتوں کے مضامین کو دوسری طرف پڑھ کر اور غور کر کے تعین کرتے چلے جاؤ۔فی الحال جو میں نے نتیجہ نکالا ہے وہ حسب ذیل ہے۔ممکن ہے اس میں الحسین غلطیاں ہوں۔مگر اس کے لئے مطالعہ ان سورتوں کا ضروری ہے۔اور یہ بات خاص محنت