مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 356
۳۵۵ س ه دفعه ل ۱۳ دفعه ۳ دقعہ ا دفعه ط م دفعه ع ۲ دفعه دفعه دفعہ ق ۲ دفعه آمدم بر سر مطلب مقطعات اور حروف مقطعات کے روشناس کرانے کے بعد اور یہ بیان کرنے کے بعد کہ یہ مقطعات بظاہر بے معنی الفاظ نظر آتے ہیں۔یہ بتانا ضروری ہے کہ پھر ان کا مطلب کیا ہے۔اور اس مطلب کے سمجھنے کے کیا اصول ہیں۔یو اپنی اپنی طرف سے ایک شخص ایک بے معنی لفظ کے کوئی معنی کرے اور دوسرا دوسرے معنی کر دے اور تیسرا تیسرے معنی کرنے نگے۔تو بلا قرائن عقلی اور قرآنی دلائل و وجوہات کے ہم اس کو محض تفسیر بالرائے کہیں کے شلاق وَالْقُرانِ المَجید میں قاف کا مطلب قاصر قهار قدیر قادر - قل- قال الله - قدرت - اقْتَرَبَ السَّاعَةُ - قلم قلب - قیامت قرآن قارون - یا قاب قوسین اگر کوئی شخص کیسے تو ہم یہی کہیں گے کہ اس کے لئے کوئی قرینہ لفظی یا معنوی یا قرآنی اشارہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمه یا عقل سلیم اور ادب لطیف کی تائید بھی تو پیش کرو۔کیونکہ وہی بغیر کسی وجہ اور ثبوت کے ایسے معنے تسلیم کر لینے نہایت نا مناسب ہوں گے بعض قی والا لفظ ہونا کافی نہیں۔تائیدی اور معنوی ثبوت بھی تو ہونا چاہیئے۔نہیں کسی نہ ہر قسم کے دلائل بھی ضروری ہیں جن سے ہمارے کئے ہوئے معنوں کی تائید ہوسکے۔