مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 339
۳۳۸ سکتی ہے۔نہ اپنی مرضی چلا سکتی ہے۔نہ اپنی کسی خواہش پر عمل کر سکتی ہے۔نہ اس کا کوئی ارادہ بروئے کار آسکتا ہے۔جس طرح زندہ انسان میں ہوا کہتا ہے۔زندہ انسان کی روح پر خلاف اس کے خواہ خدا کا حکم مانے یا نہ مانے۔خواہ نیکی کرے یا بدی کرے۔خواہ خدا کے ساتھ موفقت کرے۔یا اس کی اور اس کے رسولوں کی مخالفت کیسے خواہ دیکھے رہنے سونگھے۔چکھے یا اس کرے یا نہ کرے۔فرض مردہ کی روح محض خدا کے اختیار میں ہوتی ہے۔بر خلاف زندہ کی روح کے جو اپنا ارادہ حواس اور اختیارات رکھتی ہے۔پس مرنے کے بعد خدا کا کامل تصرف اس روح پر ہوتا ہے مگر زندہ کی روح کو کچھ اختیارات ، ملک کی طرف سے ملے ہوتے ہیں جو مرنے پر سلب ہو جاتے ہیں۔اور مرنے کے بعد اس روح کا دیکھنا ، سننا و غیرہ قطعاً اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیند میں بھی روح کو قبض کر لیتا ہوں۔یعنی پکڑ کہ اس طرح قید کر لیتا ہوں کہ نہ وہ اپنے اختیار سے سن سکتی ہے۔نہ بول سکتی ہے۔نہ ارادہ کر سکتی ہے۔نہ عمل کر سکتی ہے۔بلکہ جملہ حواس اور اعمال اس کے مروہ کی طرح ہوتے ہیں۔یسی کامل قبض روح یعنی انسان کی جان پر قبضہ باری تعالیٰ کا جس میں انسان کے ارادی اختیارات بالکل سلب ہو جاتے ہیں۔صرف دو صورتوں میں ہوتا ہے۔ایک مرکہ دوسرے سوتے میں مجبھی تو یہ ضرب المثل ہے کہ سویا اور مرا برایہ۔لیکن ہم دوسری طرف یہ بھی دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ انسانی روح دونوں حالتوں میں کامل بے اختیار اور پوری تصرف الہیہ میں ہوتی ہے۔پھر بھی ایک مردے اور ایک سونے والے انسان میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔حالانکہ جب دونوں کی رو میں خدا کے قبضہ میں آگئیں۔تو پھر مردہ اور سونے والا ہر حیت سے ایک ہی طرح کا معلوم ہونا چاہیئے اس بات کی وجہ نہ سمجھنے سے لوگوں کے لئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی دونوں رو میں خدا کے پاس قید ہو جاتی ہیں۔ہاں مرنے والی روح کو خدا اسی قید میں روک رکھتا ہے۔مگر سونے والے کی روح کو اس قید سے آزاد کر کے واپس کر دیتا ہے۔اس کا مطلب غلطی سے لوگوں نے یہ مجھ رکھا ہے۔کہ سونے والے کی روح بھی عزرائیل فرشتہ نکالتا ہے اور 3