مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 328
عہد کو ضرور پورا کرو - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون) واضح ہو کہ جنت کے معنی جس طرح قسم توڑنے کے ہیں۔اسی طرح تمام لغات میں اس کے دوسرے معنے حق سے باطل کی طرف جھکنے اور میلان کرنے کے بھی آئے ہیں۔اور مفردات راغب نے حنث کے معنی زینب یعنی گناہ کے کئے ہیں۔خود قرآن مجید نے بھی اپنی ایک اور آیت میں یہی معنے کئے ہیں وَكَانُوا يُصِرونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمُ (الواقعه (٢٤) یعنی وہ بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔اور حافظ روشن علی صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے اپنے ترجمہ میں یہاں حنت کے معنی گناہ ہی کے کئے ہیں۔پس ولا تحنٹ کے معنی ہوئے کہ باطل یعنی غلطی کی طرف مائل نہ ہو اور گناہ کی بات نہ کہ قسم توڑنے کے معنے کی نہ سیاق وسباق اجازت دیتا ہے۔نہ کوئی اور وجوہات ہاں آپ اپ مجھ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ایوب کو خدا نے کیوں فرمایا کہ دیکھ غلطی نہ کہ ذیت نہ کہ گناہ اور باطل کی طرف مت مجھک۔تو اس کی وجہ کیا ہے۔کیلیے اب میں اس کی وجہ عرض کرتا ہوں اور وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اجسام کی تربیت کرتا ہے۔اسی طرح اخلاق اور روح کی تربیت بھی اپنے کلام اور الہام سے کرتا رہتا ہے۔جسمانی نسخہ کے چارا جزار تو ان کو خدا نے بنائے۔مگر ایک غلطی روحانی اُن سے سرزد ہو چکی تھی۔اس کی اصلاح اور درستگی بھی نہایت ضروری تھی جس پر ان کو متنبہ کیا گیا اور وہ غلطی یہ تھی کہ ایوب نے دُعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ الى مَشَى الشَّيطانُ بِنُصْبِ وَعَذَابِ ( م : ٢٢) یعنی شیطان نے مجھ کو ایڈا اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔یہ دُعا اپنے ایک نبی کے منہ سے سننی ایسی نا مناسب اور حیرت انگیز تھی۔کہ خدا تعالیٰ نے انہیں قدر منع فرمایا