مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 327 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 327

ان کو بیماری کے علاج کا ذکر ہے۔اور ایسا علاج ہمارے ملک میں بھی رائج ہے۔ا گیا۔پس جسمانی علاج تو یہاں ختم ہوا۔یعنی ا سیر کرو مگر پالیل۔فلاں چشمے کے پانی سے نہایا کرد۔۳۔اسی چشمہ کا پانی پیا کہ و ہ پھوڑے پھنسیوں یا زخموں سے مکھیوں اور حشرات الارض کو ہٹانے کے لئے ٹہنیوں کی ایک پوری بنالو۔اور اس کو اپنے جسم پر پھیلا کر دو۔فاضرب به کا صرف یہ مطلب ہے کہ ان شاخوں یا جھاڑو کے ساتھ مار کے مار ہے یہ محذوف ہے۔اور آپ نے اس محذوف سے مراد ان کی صورت لی ہے۔جس کا تہ کوئی ذکر ہے نہ مناسبت ہے۔ہم بھی یہی کہتے ہیں۔کہ جس چیز کو مارتا ہے وہ محذوف ہے۔مگر وہ عورت نہیں ہے بلکہ شاخوں اور چوری کے لحاظ سے وہ مکھیاں بچھے حشرات الارض وغیرہ ہیں جو زخموں اور پھوڑے پھنسیوں کو گندہ اور خراب کرتے ہیں پیس منے یہ ہوئے کہ اس شاخوں کے میٹھے سے ان نقصان دہ چیزوں کو مارا ڈایا کہ۔ولا تحنث گفت میں لا تحنت کے معنی قسم نہ توڑنے کے بھی ہیں۔اس لئے مفسروں نے فرض کر لیا کہ انہوں نے ضرور قسم کھائی ہوگی۔پھر خدا نے ان کو ایک جیلہ سکھایا۔کہ سو چھڑیوں کا ایک مٹھا بنا کر صرف ایک دفعہ اس سے اپنی بیوی کو مارتا کہ قسم کا عہد پورا ہو جائے۔اور اگر چہ وہ بے گناہ ہے۔مگر تو ضرور اس کو ایک دفعہ سو درے لگا ہی دے۔اگر چہ تیر اطن غلط ہی ہے۔(عہد کا پورا کرنا دوسرے کے فائدہ کے لئے تھا مگر اب علمار طواہ نے نفط عہد کو لے لیا ہے۔خواہ اس سے دوسرے کو نقصان ہی پہنچے۔مگر تاکید یہ ہے کہ