مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 326 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 326

۳۲۵ وَخُذُ بِيَدِكَ ضِخْتَا فَاضُرِبُ بِهِ علاج نمبر ۲ یعنی اپنے ہاتھ میں ایک صحت نے ضیعت کے معنی لغت میں ہیں سبز اور خشک گھانسی یا سبز اور خشک ٹہنیوں یا شاخوں کا گٹھا۔مثلاً چند سبنر شاخیں لے کر خشک گھاس یا ہنی سے اس کو اس طرح باندھ لیا جائے کہ وہ جھاڑو یا چوری کی طرح ایک مکھیاں اُڑانے والی چیز بن جائے ہیں جب زخموں یا پھوڑے پھنسیوں کا علاج ورزش سے اور نسل سے بطور دوا سے ہی ہوا۔پانی پینے سے ہوا تو ضروری ہے کہ حیم کے زخموں کی مکھیوں، پچھوں کیڑوں اور ان آفتوں سے بھی پوری حفاظت کی جائے تاکہ مکھی کے بیٹھنے کی وجہ سے اس میں کپڑے وغیرہ نہ پڑ جائیں اور یہ چوری یا سری شاخیں ڈرینگ کا کام کریں۔خُذُ بِيَدِكَ سے معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ ان کے ہاتھ ایسے خراب نہیں ہو گئے تھے کہ کیڑے پڑ گئے ہوں یا انگلیاں جھڑ گئی ہوں۔بلکہ ایسے تھے کہ وہ ان سے دن کو جسم پر چوری چھیلنے کا کام لے سکتے تھے۔قاضرب بے یعنی اس چوری کو اپنے ہاتھ سے ہلایا کہ تاکہ زخم یا چھوڑے حشرات الارض سے محفوظ رہیں۔ضَرَب کے معنے حرکت کہ تا نحوی طور پر بھی ہیں۔اور ضرب کا لفظ تو عربی میں ہر فعل کی جگہ آسکتا ہے اور اردو میں ہم یوں ترجمہ کر سکتے ہیں کہ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا شانوں کالے کر ہلایا کہ یا اس سے مکھیاں وغیرہ ہٹایا کہ۔یہاں سے یہ بھی واضح ہوا۔کہ ہر گزنہ یہاں یا کسی اور جگہ مارنے کا اشارہ یا کتابیہ بیوی کی طرف نہیں۔بلکہ ایوب کے سارے قصہ میں کہیں ان کی اہلیہ کا ندمت کے ساتھ ذکر نہیں۔نہ یہ ذکر ہے کہ منٹو عدد شاخیں ہے۔نہ کہیں ان کے اس قسم کھانے کا ذکر ہے کہ میں اپنی بیوی کو کسی قصور کی وجہ سے اچھا ہو کہ سرا دوں گا۔بلکہ ایوب کے قصہ میں صرف