مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 306
۳۰۵ سوال کا فیصلہ ہوتا ہے۔وہاں ضرورت ہر چیز کو جائزہ کر دیتی ہے۔سوال : جلبابی پردہ میں ہم کہتے ہی کہ منہ کھلا رکھنا چاہیے۔آپ کے پاس اس بات کی کیا سند ہے کہ مند کھلا نہیں رہنا چاہیئے، جواب : گھر سے باہر والے یعنی جلی بی پردہ کی جو آیت ہے اس میں سے ہی یہ استنباط ہوتا ہے کہ باہر نکلنے والی بیبیاں اپنا سارا منہ کھلا نہ رکھیں۔صرف اتنا کھلا رکھتا تو مجبوری ہے۔جس سے نظر اچھی طرح آسکے۔وہ آیت یوں ہے۔ذالك ادنى ان يعرفن فلا يودين یعنی مسلمان عورت میں جلباب اوڑھ کر باہر نکلا کریں۔اس لئے کہ لوگ ان کو پہچان لیں کہ یہ مسلمان عورت آرہی ہے اور اس وجہ سے ان کو تکلیف نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا که اگر عورتیں منہ کھول کر نکلا کرتیں تو پھر جباب کی ضرورت ہی کیا تھی۔دوسرے یہ کہ یہاں جلباب کو مسلمان عورت کی پہچان کا ذریعہ قرار دیا ہے نہ کہ اُس کے چہرہ کو اگر چہرہ کھلا رہتا تو وہ چہرہ پہچان کا موجب ہوتا نہ کہ جلباب۔مگر آیت نے یہ فرمایا ہے کہ مسلمان عورت چادر کو اس طرح اوڑھ کر باہر نکلے کہ چادر ہی اس کی پہچان کا ذریعہ ہو۔اس لئے ثابت ہوا کہ چہرہ ضرور چھپا ہوا ہو۔اور صرف چادر کی وجہ سے لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورت ہے جو جارہی ہے۔اس کے جسم اور چہرہ اور اعضاء کی بناوٹ سے پتہ نہ لگے کہ کون سی عورت ہے۔یا درکھنا چاہیے کہ یہ جلبانی آیت امہات المومنین پر بھی اسی طرح حاوی تھی جس طرح دیگر مومنات پر اس لئے اگر چہرہ کھلے رکھنے کی اجازت ہوتی تو امہات المومنین کی پہچان تو مدینہ میں ہر شخص کو پہلے ہی سے تھی۔وہ ان کے چہروں سے بخوبی واقف تھے۔کیونکہ وہ حجاب کے حکم سے پانچ سال پہلے ان کے سامنے بے پردہ پھرتی تھیں پھر ان کے