مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 305
یعنی وہ عمر تھیں جو بے حیائی کی مرتکب ہوتی ہیں ان پر چار گواہوں کی گواہیاں مل جائیں۔تو ان کو گھروں میں روک رکھو اور باہر نکلنے نہ دو یہاں تک کہ وہ فوت ہو جائیں یا خدا ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے مثلاً وہ پوری اصلاح اور توبہ کر لیں۔یا طلاق مل جائے یا اگر کنواری یا بیوہ ہوں تو ان کا نکاح ہو جائے وغیرہ۔پس یہ ایک قسم کی تعزیر بھی موجود ہے۔مگر یہ صرف ان عورتوں کے لئے ہے جو اپنا پردہ توڑ کر بے حیائی کی بھی مرتکب ہوں۔مشکلا جیسا اس زمانہ میں بعض لڑکیاں ذرا پڑھ جاتی ہیں تو ناولوں اور بے ہودہ عشقیہ اشعار کے مطالعہ سے متاثر ہو کر رقعہ بازی اور نظر بازی اور عشق بازی میں حصہ لینے لگتی ہیں اور پردہ نظر کا اور کپڑے کا دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایسی عورتوں کے لئے یہ شرعی تعزیہ بھی موجود ہے۔یہ حالات اس زمانہ میں بہت پائے جاتے ہیں اور یہ آوارگی دینی تعلیم کے نہ ملنے اور شرعی پردہ نہ کرنے سے ہی پیدا ہوئی ہے۔سوال : آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں جنگوں میں جاتی تھیں اور اُحد کے میدان میں تو لکھا ہے کہ ان کی پنڈلیاں تک نکلی تھیں۔پس یہ پردہ کیسا تھا ؟ جواب : - اُحد میں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں یہی حال تھا۔مگر کردہ تو اس کے دو سال بعد جاری ہوا ہے۔یہ بات پردہ کے حکم سے پہلے کی ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ جنگ کے میدان کی اور حیثیت ہے۔وہاں کسی قوم کی موت اور زندگی کا سوال پیدا ہوتا ہے اور تمام حالات شہری معاشرت کے ساقط ہو جاتے ہیں۔وہاں صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ کسی طرح فتح حاصل ہو۔پیس ان حالات میں عورتوں کا لڑنا یا زخمیوں کی خبر گیری کرنا وغیرہ سب جائز بلکہ فرض ہو جاتے ہیں۔جنگ کے میدان کے حالات کو شہر کے حالات سے کیا مناسبت ؟ جنگ میں جان مال ملک عزت دین کے