مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 302
٣٠١ لے آئیں۔جو دشمن ہوا سے مار ڈالیں۔اور جو بھی خواہش ہو اسے پورا کر لیں۔مگر انہوں نے دیکھا کہ یہ آزادی سوسائٹی کے تباہ کرنے اور ملک کا امن برباد کرنے کا باعث ہے۔اس لئے قانون اور مذہب کے نیچے پناہ لے کہ انہوں نے خود اپنی اس مہلک آزادی پر قید لگادی اور نقصان دہ خواہشات کو ملک کے امن اور سوسائٹی کی بہتری پر قربان کر دیا۔نفس انسانی کی مثال ایک گھوڑے کی مانند ہے جو اپنے جوہر اور قابلیت اسی وقت دکھاتا ہے جب وہ پابند ہو اور اس کے منہ میں لگام ہو نہ یہ کہ بے لگام اور ہر طرح غیر مفید ہو۔سوجس طرح مردوں نے اپنے تئیں بہت سی باتوں میں آزادی کھو کہ مقید کہ دیا ہے۔اسی طرح عورتوں کے لئے بھی شرعی پر وہ ایک مناسب قید ہے۔بیشک وہ کامل آزادی میں روک ہے مگر یہ روک اخلاقی صحت اور سوسائٹی کے امن اور گھروں کی راحت کے لئے نہایت ضروری ہے۔پس وہ عورتیں جو آزادی چاہتی ہیں وہ یہ سوچ لیں کہ آج تو بیشک ان کو یہ آزادی بہت لذت وہ معلوم ہوگی۔مگر پھر چند سال بعد قدرتاً وہ اس کی مزید قسط کی طلب گار ہونگی پھر اس سے اگلی قسط کی یہاں تک کہ ان کی حالت یورپ کی آزاد منش عورتوں کی طرح ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں عورت عورت نہیں بلکہ مرد ہے کیونکہ وہ مردوں والا علم حاصل کرتی ہے۔ان کی طرح خود کمائی کرتی ہے۔تمہا ر ہتی ہے۔شادی اور اولاد کے قیود سے آزاد رہنا چاہتی ہے۔برتھ کنٹرول پر عمل کرتی ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس مقام سے بہت آگے پہنچی ہوئی ہے جس درجہ پر ایشیا کا کوئی بڑے سے بڑا آزاد منش بھی کبھی پہنچا ہوگا۔پس غور کیہ و کہ کیا یہ آزادی تمھیں پسند ہے ہے کیونکہ پردہ کا دور کرنا اس زمانہ میں یقیناً رفتہ رفتہ عورتوں کو اسی راستہ پر لے جائے گا۔جس پر ان سے پہلے ان کی یورو چین نہیں گذر چکی ہیں۔دنیا میں ہر شخص کی ہر قوم کی ہر نفس کی آزادی کی ایک حد ہے اگر عورتیں اس حد سے باہر قدم نکالیں گی جو اسلامی شریعت نے ان پر مقرر کی ہے تو وہ یا درکھیں کہ وہ سخت نقصان