مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 298
۲۹۷ اس سے زیادہ اس کی حقیقت نہیں۔اور اسی لئے اس میں زینت اور الاما ظهر منها کے الفاظ داخل کئے گئے ہیں کہ حسب حالات اور حسب رواج اور حسب ضرورت اس قسم کے پر دوہ میں کمی بیشی ہوتی رہے۔مثلا جب وہی حسین و جمیل عورت ذرا نپختہ عمر کی ہو جائے اور اس کی نوجوانی کا حُسن اُس آب و تاب کا نہ رہے تو پھر وہ اپنا منہ بیشک کھول دے۔اسی طرح زمینداروں میں اپنا کھیت اور تناجمہ پیشہ عورتوں میں اپنی دوکان بھی گھر کا حکم رکھتی ہے۔وہاں عورتوں کا کام ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اپنے گھروں میں اس لئے وہاں بھی خمری پر دہ ہو گا کیونکہ وہ غیر جگہ نہیں ہے بلکہ غرباء اور محنتی عورت کے لئے وہ اس کا اپنا گھر ہی ہے اس لئے دکاندار عورت اپنی دکان میں اور زمیندار عورت اپنی کھیتی ہیں اُسی پیاس میں کام کر سکتی ہے جس میں وہ اپنے گھر میں رہتی یعنی عمر کی پردہ کے ساتھ۔اُمہات المومنین کی خصوصیت کیا تھی ؟ اب ہم اس بات کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ امہات المومنین کے پردہ میں کیوں بعض خصوصیات داخل کی گئی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم کے تعد والدواج کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ور (1) عورتوں کے لئے دین اسلام کی معلمہ خواتین پیدا کی جائیں۔(۲) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے اندرونی اخلاق عادات معاملات عبادات اور حالات اُمت کو مختلف اور متعدد طریقوں سے معلوم ہو سکیں۔اور یہ کام ایک عورت سے نہیں چل سکتا تھا بلکہ کئی عورتیں اس کام کے لئے ضروری تھیں اور ان معلمہ خواتین کے لئے ضروری تھا کہ یہ