مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 288
چاہیے کہ ان حالات میں ہمیشہ دو پتہ یا اوڑھنی کا اس طرح بکل ماریں کہ سر اور سینہ ڈھکے رہیں۔اور اپنی زینت (سوائے ایسی زینت کے جیسے چھپا نہیں سکتیں) سوائے اپنے محرم رشتہ داروں کے کسی اور کے سامنے کھول کر نہ بیٹھیں۔اور پیروں میں زیور ہوں تو چھنکا چھنکا کر نہ چلیں کہ خواہ مخواہ اس طرف نا محرم مرد کا خیال جائے۔ہاں اگر کوئی ضعیفہ عورت ہو تو اس کے لئے جائزہ ہے کہ گھر میں اور منی اس طرح پابندی سے نہ اوڑھے بشرطیکہ اس نے زینت نہ کر رکھی ہو۔لیکن اگر ضعیفہ بھی احتیاط ہی رکھے تو بہتر ہے۔بیس اب شرعی پردہ کا معاملہ بالکل سادہ ہو گیا۔دوباتیں رہ گئیں کہ ہر را، زینت کیا ہے؟ (۲) اور الاما ظھر منھا سے کیا مراد ہے ؟ زینت زینت کہتے ہیں بناؤ سنگار آرائش کو۔اور وہ دو قسم کی ہے لعینی (1) ایک تو وہ بیرونی آرائش ہے جو انسان کو سنوار دے اور بارونق کر دے۔اس لئے زیورات اور بال جو سنوارے جاتے ہیں۔چوٹی جس کی بناوٹ اور ساخت میں ہی تکلف ہوتا ہے مہندی اپوڈر سرخی جو رخساروں کو مزین کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ایسے ہی خاص طور کے دلکش رنگدار سبیل بوٹے دار یا گوٹے تھے کے زرق برق کپڑے نیز خوشبوئیں کلائی کی گھڑی۔غرض تمام ایسی چیزیں جو بناؤ سنگار اور حسن کے چپکانے کو عورتیں استعمال کہتی ہیں۔سب زینت میں داخل ہیں اور ان سب کا ایسے گھروں میں ظاہر اور نمایاں کرنا جہاں ہر وقت نا محرم کی نظر کا احتمال ہو منع ہے۔سوائے الاما ظھر منھا کے لینی جن کو چھپایا نہیں جاسکتا مثلاً چیزوں میں سے انگلیوں کی انگوٹھی یا چھلا یا ہا تھوں کی مہندی ایسی زینت ہے جس کو چھپایا نہیں جاسکتا۔کیونکہ بغیر ہاتھوں کے باہر رکھے کام نہیں ہوسکتا۔یا چہرہ۔یا ایسی چوڑیاں ہاتھوں کی یا پیروں کے آواز نہ دینے والے زیور جو ہمیشہ استعمال میں