مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 224
۲۲۳ بڑھتے میں ہزار مالیت کا ہو گیا۔محلہ وہ عطا فرمایا جو دارالامان کا مرکز ہے۔معزت وہ دی جس کا میں مستحق نہ تھا۔یا اللہ میں تھک گیا اور ابھی روزانہ نئی نئی نعمتوں اور نئے نئے فصلوں کا تو ذکر بھی نہ کر سکا۔مجھے تو بیماری اور موت تک بھی تیری نعمتوں میں سے نظر آتی ہیں۔تونے ہی محض اپنے فضل سے میری وصیت میری زندگی میں ادا کرا دی اور تو نے ہی یا وجود امراض کے مجھے غیر معمولی عمر بخشی۔جب دنیا کا یہ حال ہے تو آخرت میں جو خیر اور ابھی ہے۔کیا کیا فضل نہ ہوں گے پنج ہے وإن تَعدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الإِنْسَانَ تَظلوم كَفَّارُ ایرانیم (۳۵) توجہ ، اور اگر تم اللہ کے احسان گننے لگو تو اُن کا شمار نہیں کر سکو گے ، انسان یقیناً بڑا اسی ظالم (اور) بیماری ناشکر گذار ہے۔اگر خدا طاقت عقل اور روانی بخشے تو دنیا کے کاغذ اور سیا سیاں ختم ہو جائیں۔قلمیں گھس جائیں۔مگر اے میرے خدا میرے منعم خدا تیری نعمتوں کی گنتی اور ان کاش کہ پھر بھی ادا نہ ہو سکے۔میری تو مینک کا ایک شیشہ ہی اگر ٹوٹ جائے تو میں مصیبت میں پڑھاتا ہوں۔جاڑے میں اگر گرم جرابیں نہ ملیں تو قریب المرگ ہو جاتا ہوں۔گھر کی بجلی فیل ہو جائے تو انھوں کی طرح ٹوٹتا پھرتا ہوں اینفرض ایک چھوٹی سے چھوٹی نعمت بھی ضائع ہو جائے تو زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔بڑی بڑی نعمتوں کے ضائع ہونے کا تو کیا کہنا : اللَّهُمَّ اهْدِنَا الصراط المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یا اللہ دنیا اور آخرت میں اپنی رضا اور اپنے کوثر سے ہمیں متمتع فرما۔اور اپنی لیے نہایت رحمت اور وسیع اور ایدی جنت سے ہم کو سرفراز کرے۔آمین الفضل ۱۸ اکتوبر (۱۴۴)