مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 225
۲۲۴ مغفرت الہی کے نظارے ایک مرتبہ مغفرت اہلی کے مضمون پر غور کر رہا تھا اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سورچی کہ لطف اٹھا رہا تھا کہ میرے ذہن پہ ایک ریودگی طاری ہوگئی اور بعض ایسے نظائے نظر کے سامنے سے گزرے جن کے ساتھ میرے اس مضمون کا تعلق ہے۔اب خواہ ان معاملات کو دماغی تصور سمجھ لیں، خواہ خیالات کی دو خواہ نیم مکاشفہ کی حالت اس کا کوئی اثر اصل بات پر نہیں پڑتا۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایک علمی بات معنوی حالت سے ایک صوری شکل کر گئی ورنہ مطلب اور حقیقت در اصل ایک ہی ہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک میدان میں ایک عظیم الشان دروازه جیسا که شادی بیاه دنیز کی تقریبوں میں نصب کیا ہے، مجھ سے کچھ فاصلہ پر لگا ہوا ہے، نزدیک گیا تو اس کے اوپر نہایت خوبصورت حروف میں لکھا ہوا تھا در كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن : ٣٠) ترجمه ده سر وقت ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔اور اس بڑے دروازے کے دونوں طرف بھی عجیب و غریب قطعات لگے ہوئے تھے ، کسی پر لکھا تھا۔ني عبادتى اني أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الحجم ٥٠) توجبه ملاے پیغمبر!) میرے بندوں کو آگاہ کر دے کہ میں بہت ہی بیچنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہوں۔