مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 211
۲۱۰ اللہ کے ایذا دینے کا مطلب ایک استعارہ ہے۔یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں۔گویا اپنی طرف سے خدا کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔اندار پانا، میمون تمسخر کرنا ظلم کرتا۔کینه دوری۔قریب دھوکا اور گالیاں دینا خدا تعالیٰ کی شان سے بعید ہیں۔اور یہ الفاظ بطور استعارہ یا محاورہ کے استعمال کئے گئے ہیں۔کریسی کے معنے خود آیت کی رو سے علم کے ہیں۔اور عرش کے معنی حکومت کے غضب کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح انسان غصہ میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور جوش میں اس کے ہوش بیجا نہیں رہتے اور اس پہ ایک تغیر آجاتا ہے۔یہ حالت خدا کی نہیں ہوتی۔اس پر کوئی تغییر دارد نہیں ہوتا بلکہ مغضوب کے معنی ہیں خدا کی رضا سے محروم ہو جانا اور خدا کی نعمتوں کا چین جانا۔خدا کے ہاتھ سے مراد اس کی طاقت اور قدرت ہے۔توجہ سے اس کی توجہ۔آنکھ سے مراد اس کی صفت بصر۔اور ان کی حقیقت خدا ہی کو معلوم ہے۔حبیب اسلام نے خدا کو بے مثل مانا تو لانہ گا اس کی صفات کو بھی بے مثل مانا۔اور یوم کشف عَنْ سَانِ ایک محاورہ ہے جس کے سنتے ہیں کہ جس دن حقیقت آشکارا کی جائے گی۔یا جس دن محنت اضطراب کا وقت ہوگا۔ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ بعض صفات الہیہ آپس میں متضاد ہیں۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک صفت اگر اس کی اچھی ہے تو دوسری جو پہلی صفت کے عین مخالف ہے وہ لات گائیدی ہو گی۔اس مشکل کا حل اس طرح پر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے تو اصلی تضاد اس کی صفات میں نہ ہو گا۔مثلاً اگر وہ رحیم ہے تو وہ بے رحم نہیں ہو سکتا اور جو تکالیف اور مصائب لوگوں پر آتے ہیں وہ اس کی بے رحمی کا نتیجہ نہیں بلکہ انصاف ہیں یا کسی اور پر رحم ہیں یا خود اسی شخص پر رحم ہیں جس کی کہنہ کو فی الفو نہیں پاسکتے نیز بعضی قسم کا تضاد معیوب نہیں ہوتا بلکہ موقعہ وقت اور حالات کے لحاظ سے ہوتا ہے۔جیسے ایک بادشاہ کی حکومت میں بعض لوگ شاہی دستر خوان پر بیٹھے ہوتے ہیں اور بعض جیل خانوں میں تکلیف اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔مخلوقات عالم میں جو اختلاف آپس میں پایا جاتا ہے۔یہ بھی کمال حکمت کی وجہ سے ہے