مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 206
۲۰۵ ہے۔اور خدا تعالٰی کی حمد و ثنا کے لئے یہ ضروری ہے کہ دل سے بھی یہ سمجھا جائے کہ وہ ذات بابرکات رب العالمین ہے رحمن ہے رحیم ہے مالک یوم الدین ہے۔ہر آواز کو سنتا ہے۔ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ہر بات کی خبر رکھتا ہے۔دعاؤں کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے کلام کرتا اور ان سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا ہر فعل حق و حکمت پر مبنی ہے۔وہی سب کو رزق دیتا ہے عدم سے وجود میں لاتا ہے۔پیدا کرتا ہے۔مارتا ہے اور پھر دوسرے عالم میں زندہ کرتا ہے۔خود ہمیشہ رہنے والی بہتی ہے بشکستہ کی مرمت کرنے والا بیمار کو شفا نمٹنے والا ہر طرح کی قدرت رکھنے والا محدود اعمال کے بدلہ ابدی جزا دینے والا حكم مايشاء فعّال لما يرمن (بوم) بِكُلِّ شَى عَلِیم شہنشاہ سب پر غالب بے حد سخی منصف ابدی۔عالی شان - عالم کا تقوم فیض یہاں مصلح روزی رساں - در گذر کرنے والا۔توبہ قبول کرنے والا۔اکیلا معنی نہیں نے عالم تھا۔طاقتور ، علیم، قدردان ، فذه فته کا اندازہ اور حساب رکھنے والا محبت کرنے واہی ذره والا ام اس اداء الا غیر محمد دا سب سے زیادہ ظاہر اور سب سے بڑھ کر بھی۔سر جگہ حاضر ناظر اور جس کا عذاب بھی اس کی رحمت کی ایک شاخ ہے۔فرض اس قسم کے محامد پر ایمان لانا اور خدا تعالٰی کی اعلیٰ صفات پر یقین کر کے اسکی تحمید کے وقت ان باتوں کو مد نظر رکھنا ہی تو اصل ذکر ہے ورنہ ایک طوطے کے الحمد للہ کہنے اور کسی انسان کے الحمد اللہ کہنے میں کوئی فرق نہیں۔بغیر جس طرح تسبیح کے معنے خدا کو میوں سے پاک سمجھنے کے ہیں۔اور تحمید کے معنی خدا کی تعریف بیان کرنے کے ہوتے ہیں۔اسی طرح تکبیر کے سنتے ہیں۔کہ خدا تعالٰی اپنی پاکی اور تعریف میں سب سے بڑھ کر ہے۔یعنی وہ رحیم ہے۔تو اس کا رحم تمام مخلوقات کے رحم سے بڑھ کہ اور وسیع ہے۔اگر وہ رب ہے تو اس کی ربوبیت تمام عالمی پر چھائی ہوئی ہے اور دیگر روایت