مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 199 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 199

١٩٨ اک ہو، اس طرح ملا کہ پڑھنا ایک کامل اور جامع اور مختصر ذکر ہو جاتا ہے۔اسی طرح سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظیم بھی ایک جامع ذکر ہے۔جیس کی احادیث میں بہت تعریف آئی ہے۔کیونکہ اس میں تسبیح اور تحمید اور تکبیر نین ذکر داخل ہیں۔پس خواہ کوئی الگ الگ یہ کلمات ذکر پڑھے۔خواہ ملا کر۔عام ذکر الہی اپنی چار کلمات میں محدود رہے اور چاروں اوکار والے کلمہ اور اس کے بعد تین اذکار والا جامع کلمہ الگ الگ اذکار پر فضیلت رکھتا ہے۔اور ان پر وقت بھی تھوڑا خرچ ہوتا ہے۔- ان اذکار کے سوا اسماء و صفات الہی کا ذکر بھی ذکر الہی ہی ہے۔مگر وہ جامع نہیں ہے، بلکہ وہ کلمات اکثر فکر کرنے اور تفصیلی ذکر الہی کے لئے ہیں۔جامع اور محمبل ذکر رہی ہیں۔جن کے ماتحت باقی سب اذکار بطور شاخ کے ہیں۔ایک نہایت محمد تفصیلی ذکر وہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کی ننانوے صفات کا بیان ہے اور جس کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص ان ننانوے اسمائے اللہ کو یاد کرلے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔یہ ذکر میں اس مضمون کے آخر میں درج کروں گا۔ایک مشہور کلم لا حول ولا تا الا باللہ بھی انکا میں داخل ہے میرے نزدیک یہ بھی دعا ہی ہے جس طرح کہ تعوذ یا استغفار سب سے اعلیٰ ذکر یہ بیان پڑھنے کے بعد اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ کے نزدیک سب سے اعلی ذکر کون ہے۔تو میں یہی جواب دوں گا کہ سب او کار یعنی تسبیح ، تحمید، تہلیل اور تکبیر نیز تعوذ لا حول۔استغفار اور در دو ضرور اپنے اپنے موقعوں پر کرنے چاہئیں لیکن ذکر الہلی اور دعا اور قرآن تینوں کو ملا کہ ایک عجیب معجون مرکب خدا کی طرف سے بھی نازل ہوئی ہے۔اور میرے نزدیک وہ سب سے اعلیٰ ترین ذکر ہے اور اس ذکر کا نام ہے سورۃ فاتحہ یہ مختصر سورت ہر قسم کے