مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 154
۱۵۳ میر صاحب کی رگ حمیت پھڑک اُٹھی اور آپ نے ان زہر آلود تیروں کا جواب منکران محمود " پیغامی لیڈروں سے خطاب " ان کا رنگ ، جیسی نظموں کے ذریعہ دینا ضروری سمجھا لیکن جن دوستوں کو میر صاحب کی ان نظموں کو پڑھنے کا اتفاق ہو وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ باوجود مظلوم ہونے اور انتہائی دل آزاری کے نشانہ بننے کے آپ نے اپنے کلام میں کوئی قابل اعتراض یا دل آزار بات نہیں کی۔اور اپنی پاکیزہ تظموں کو ابتذال، تمسخر، یا استہزاء سے ہر گز آلودہ نہیں ہونے دیا جو آپ کی عالی ظرفی اور بلند اخلاقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۹۔حضرت میر صاحب نے سلسلہ کے واقعات کو منظوم فرما کہ ایک تاریخی خدمت بھی انجام دی ہے۔۱۹۲۲ء میں حضرت مصلح موعود نے جب بیت الفضل ، لندن کا نگ بنیاد رکھا تو میر صاحب نے اس موقعہ پر ایک نظم " مرکزہ کفر میں خانہ خدا کے عنوان سے تحریر فرمائی جس کے ذریعہ تمام افراد جماعت کے جذبات کی ترجمانی کا فرض انجام دیا۔- قطعات درباعیات کے علاوہ تربیتی رنگ میں آپ نے تنظمیں بھی لکھی ہیں۔۔۔مثلا مجھ کو کیا بیعت سے حاصل ہو گیا " " نہ ادھر کے نہ رہے نہ ادھر کے رہے " وقف میں ناریلی کا نتیجہ) ، "خداداری چه غم داری ، اہل خانہ کو وصیت ' نوائے تلخ ، امربیان کو نصیحت قابل توجه خدام، دخیره -11 عقائد کے سلسلہ میں آپ نے بعض مایہ النزاح اور مختلف فیہ مسائل کے بارے میں بڑے لطیف انداز میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ایسی نظموں میں ناسخ ومنسوخ قرآن، سنت اور احادیث کے مدارج علم ترب یعنی علم توجد یا مسمریزیم ، کچھ دعا کے متعلق " لاس نظم میں آپ نے دعا کے فلسفہ کو اس طرح عام فہم انداز میں بیان کیا ہے کہ قبولیت دعا کے متعلق تمام شکوک کا ازالہ ہو جاتا ہے۔آپ نے نظم