مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 134
١٣٣ غالباً نا ہی کا واقعہ ہے کہ میں ملتان سے (کیونکہ ملتان کالج میں داخلہ لیا ہوا تھا جلسہ سالانہ کے موقع پر خدام الاحمدیہ کے سالانہ تقریری مقابلہ میں شامل ہوا۔مقابلہ بیت اقصی میں تھا اور مقابلہ میں کافی خدام شریک تھے جو علمی قابلیت کے لحاظ سے یقیناً مجھ سے بڑھ کر تھے۔میری باری آئی۔میں نے ایک مضمون لکھے کہ زبانی یاد کر لیا تھا۔اور وقت کے مطابق تقریر کے انداز میں وہ مضمون سٹیج پر جاکر دہرا دیا۔ابھی میرے بعد بہت سے خدام کی تقریریں ہوتی تھیں کہ میں کسی ضرورت سے بہت کے اندرونی حصہ سے اُٹھ کر باہر جانے لگا تو یہ آمدے میں آتے ہوئے ایک صاحب کے قریب سے گذرا جو محراب کے متون سے پیٹھ لگائے اور کمبل میں لیٹے پٹائے ایسے بیٹھے تھے کہ ان کا چہرہ پوری طرح نظر نہیں آرہا تھا۔جوں ہی میں قریب سے گذرا تو مجھے کھیل میں سے حضرت ماموں جان کی آشنا آواز آئی ، خوب تھی تمہاری نظریہ خوب تھی۔“ اور اس مقابلہ میں اول آنا میں زندگی بھر انہیں بھول سکتا۔۱۹۴۴ ء میں میں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا اگر چہ اپنے کالج کی آرٹ کلاس میں سے اول آیا۔لیکن نمبر بہت اچھے نہیں تھے۔نتیجہ نکلنے کے بعد ایک دن قادیان میں بازار سے گزر رہا تھا کہ ذرا فاصلے سے آواز آئی۔(اسلام) مجھے معلوم ہے تم پاس ہو گئے ہو لیکن میں تمہیں مبارک نہیں دوں گا۔“ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت ماموں جان مجھ ناچیز سے مخاطب تھے۔جب میں قریب گیا تو یہی الفاظ دہرا کر فرمایا کی تم سمجھتے تھے کہ میں تمہیں بھول جاؤں گا۔میں تمہارے ابا جی سے تمہارے پاس ہونے اور نمبروں کے متعلق پوچھ چکا ہوں۔میں تو جو بھی اچھالڑ کا قادیان سے نکلتا ہے اس کا خیال رکھتا ہوں اور اس کے والد سے اس کے متعلق پوچھتا رہتا ہوں۔" میرے اللہ ! آپ اس انسان کی اولاد اور نسل پر اپنی بے پایاں برکتوں کا نزول فرمائیے جو جماعت کے نو جوانوں کا اتنا درد اپنے دل میں رکھتا تھا۔