مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 124 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 124

۱۲۳ محترم خالصاد بینشی برکت علی صاحب جوائنٹ تا ظر بیت المال بے عیب ذات تو خدا ہی کی ہے۔لیکن کوئی فرد ایسا نہیں جو عیب سے میرا ہو۔و بادان نا خواستہ منظور فرماتے۔آپ۔لیکن یہ سمجھے ہے کہ حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحب مرحوم اس درجہ مخاط واقع ہوتے تھے کہ کوئی شخص انگشت نمائی نہیں کر سکتا تھا۔دنیاوی معرفت کے لحاظ سے سول سرجن کے عہدے پر فائز تھے جسمانی رشتے کے اعتبار سے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے نسبتی پر اور اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے نہ صرف ماموں بلکہ سسر بھی تھے۔مگر اللہ اللہ طبیعت نہایت سادہ پائی تھی۔کہ خود پسندی و خود ستائی نام کو ہ تھی مجلس میں کبھی نماز جگہ پر نہ بیٹھتے۔بلکہ معمولی پسند کرتے۔جلسہ ہمیں صدر نا پسند نہ کرتے تھے۔اگر کبھی آپ کو مجبور کیا صدارتی ریمارکس میں اعلیٰ درجہ کی نصائح کرتے۔آپ حد درجہ متقی اور پرہیز گار تھے۔مداہنت قطعا پسند نہیں کرتے تھے۔تا ہم حق بات اس طرح کیا کرتے کہ کسی کو کیا معلوم نہ ہوتا۔شخصیت نہایت متواضع تھی۔اور تواضع اور کوئی تصنع نہ تھا۔اور نہ کسی قسم کا رنج دل میں لاتے۔بلکہ خوشی محسوس کرتے۔عرصہ کی بات ہے جب آپ امرتسر تبدیل ہو کر آئے تو امر تسر جانے والے احمدی احباب اکثر آپ کے مکان پر ٹھہرتے۔آپ کبھی دل میں میں نہ لاتے۔آپ سب کی اس طرح تواضع کہتے کہ سر کوئی یہ محسوس کرتا کہ گویا حضرت میر صاحب کو ان کے آنے سے خوشی ہوئی ہے۔ان دنوں وہاں سول سرعین ایک انگریز تھا جس کا نام قالباً سمتھ صاحب تھا۔اُسے آنکھوں کے بناتے ہیں خاص مہارت تھی، اور بلامبالغہ سینکڑوں مرد اور عورتیں آنکھیں بنوانے کے لئے وہاں جاتے تھے اور شفا یاب ہو کر آتے تھے۔میری