مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 123
۱۲۲ سے معمور ہو کہ پڑھنے والوں نے لطف اٹھایا۔ان کا پر معارف کلام آئندہ بھی پڑھنے والوں کے لئے ازدیاد علم کا باعث بن کر خراج تحسین حاصل کرتا رہے گا۔آپ کے دوسرے مضامین بھی جو نہایت دلچسپ ہونے کے علاوہ ٹھوس معلومات پر مشمل ہوا کرتے تھے۔اپنے اندر نمایاں انفرادیت کی شان رکھتے تھے۔ان کے مضامین و کلام کی انفرادیت اس درجہ نمایاں ہوتی تھی کہ اگه آخر یہ با سرنامہ پر ان کا نام نامی نہ بھی ہوتا۔تو قارئین کو ابتدائی چند فقرات پڑھنے سے بخوبی معلوم ہو جاتا کہ یہ خیالات کس قلم گوہر کے چکیدہ ہیں احمدیت کی محبت آپ کے وجود میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے تو خاص طور پر عشق تھا۔مگر اس کے ساتھ ساتھ اسی درجہ حضور والا کا احترام بھی تھا۔غرض حضرت میر صاحب ممدوح۔اہل کلام۔اہل کمال اور اہل فن تھے۔اور روحانیات ، اخلاقیات میں نہایت ہی بلند مقام پر فائز تھے۔امد ایک تافع وجود تھے۔درد مند دل رکھتے تھے۔ان کا ہر خاص و عام مدح خواں ہے جماعت اور سلسلہ کے لئے آسمان احمدیت کے ایسے چکتے ہوئے ستارہ کا غروب ہو جانا ایک زبر دست قومی نقصان ہے۔اللہ تعالی بیت النعیم میں بھی آپ کو مقام رفیع عطا فرمائے۔اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔نیز انہیں اپنے اس بزرگ جلیل کے روحانی واخلاقی اوصاف کو اپنے اندر بدرجہ اتم پیدا کرنے اور ان روایات کو قائم رکھنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔1952 الفضل قادیان ۲۸ جولائی ۱۹۴۷