مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 121 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 121

۱۲۰ میں نے محسوس کیا۔کہ میری سوچ غلط تھی۔اور سچی بات وہی تھی جو حضرت میر صاحب نے فرمائی تھی۔جب میں قادیان میں نیشن لے کر آیا تو حضرت میر صاحب سے اکثر ملنے کا اتفاق ہوتا۔اور وہ ہمیشہ محبت سے ملتے اور مشفقانہ سلوک کرتے۔کوئی تین سال کی بات ہے نہ میرے لڑکے ملک شبارت لحد کے کان میں سخت در دکئی دن رہا۔کئی علاج کروائے۔فائدہ نہ ہوا۔آخر میں اسے حضرت میر صاحب کی خدمت میں لے گیا۔بچے کی بیماری کا ان کو پہلے ہی شیخ فضل احمد صاحب کی زبانی علم ہو چکا ہو چکا تھا۔مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ کسنا ہے آپ کے کسی بچے کو تکلیف تھی۔میں نے کہا یہ بچہ ہے اس کے کان میں بے چین کرنے والی درد ہے۔حضرت میر صاحب نے ہاتھ سے کان پکڑ کہ دیکھا اور ہسپتال کو چل پڑے۔ہم ساتھ ہو لئے۔پہلے اس کے کان کا معائنہ ہو چکا تھا۔مگر نہ معلوم میں جاب نے مرض کو دیکھ لیا۔وہاں جا کہ ایک مختصر سا آلہ ہے کہ جو کھر پا سا تھا۔اس کے کان کو اندر سے چھینا شروع کیا۔جس سے کچھ خون وغیرہ نکلا۔لڑکا درد سے اوٹی اوٹی کرتے لگا۔اس کی عمر اس وقت میں سال کے قریب تھی۔اور وہ خدام الاحمدیہ کا سرگرم نمبر تھا۔اُس کی یہ حالت دیکھ کہ حضرت میر صاحب نے کہا۔یہ لوگ ہیں جو اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔اور یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔یه وراسی درد کو برداشت نہیں کر سکتے تو اور کیا کام کریں گے۔اس غیرت دلانے والے کلمہ کا بچے پر ایسا اللہ ہوا کہ وہ خاموش ہو گیا۔اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فصل ہوا کہ اس کا درد اور تکلیف چلتا رہا۔تین ماہ کے قریب ہوئے کہ ایک دن شیخ فضل احمد اور اسر خیر الدین صاحب کے حضرت میر صاحب کی خیریت پوچھنے کو گیا۔اس سے پہلے دن کا تھا کہ ان کو بہت تکلیف رہی تھی خبرما کہ آپ باہر