مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 118
114 جواب دیا۔کر میں ملطندگی میں باتیں نہیں سنا کرتا ہیں نے اس عورت پر ترس کھا کر میر صحاب کو کہا۔کیوں نہیں سن لیتے۔تو فرمانے لگے۔کہ وہ مجھے علیحدگی میں کچھ روپے بطور رشوت دینا چاہتی ہے۔میں نے کہا۔آپ کا خیال ہے۔چنانچہ وہ چلے گئے۔تو عورت نے کچھ رقم پیش کی جسے آپ نے لینے سے صاف انکار کر دیا۔آپ کے گھر پر اگر کوئی مرض آتا۔تو اس کا علاج بھی اس خندہ پیشانی سے کرتے جس طرح کہ ہسپتال ہیں۔الغرض حضرت میر صاحب نے ملازمت کا تمام عرصہ خالصتاً مخلوق خدا کی خدمت ہمدردی اور بھلائی میں گذارا۔اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی اسی میں کوشاں رہے۔خدمت خلق حضرت میر صاحب کے جملہ اوصاف میں ایک خاص وصف تھا۔اروت نامه الفضل قادیان ۲۸ جولائی ۱۹۴۷ء) جناب ملک مولا نمیشن صاحب پریذیڈنٹ یونس کمیٹی قادیان اگر چہ میں جب شاہ کے دسمبر میں قادیان میں پہلی دفعہ آیا۔اور بیعت کی میرا خیال ہے کہ میں نے تب ہی ان کو دیکھا۔مگر زیادہ واقفیت اور محبت کے ازدیاد کے مواقع بعد میں نصیب ہوئے۔ان کو قریب سے ملنے کا موقع مجھے اس وقت پیش آیا۔جب وہ لاہور کے بڑے ہسپتال میں ہاؤس سرجن تھے۔میں اپنے برادر زادہ کو لے کر گیا۔جس کی آنکھوں میں گھرے تھے۔میر صاحب نے ان کو کلوروفارم سے بے ہوش کر کے عمل جراحی کیا۔ہمیں پاس کھڑا تھا۔محبت اور رقت قلب کی وجہ سے میں بے ہوش ہو گیا۔جب ہوش آئی تو میں بھی ایک میز نہ پڑا ہوا تھا۔اور حضرت میر صاحب مجھ کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔جلدی ہی مجھے ہوش آگئی۔تو میر صاحب نے فرمایا۔کہ اگر تم ایسے ہی بہادر تھے۔یا کہا کمزور دل تھے تو ساتھ ہی کیوں شہرے تھے۔