مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 111 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 111

11۔والے مرد صالح مخلوق خدا کے لئے دینی اور جسمانی لحاظ سے فیض عام جاری رکھنے والے حضرت میر محمد اسماعیل اللہ تعالی آپ سے راضی ہو) جو کچھ عرصہ سے اپنے آقا و مولا کے حضور حاضر ہونے کے لئے تیار یہ تیار اور پا بہ کاب نظر آتے تھے۔۱۸ جولائی کو جمعہ کے مبارک دن اپنے سب پیاروں اور عزیزوں کو اپنے محبوب حقیقی کی خاطر الوداع کہ کر پیچھے ہی چل دیئے۔مجھے نہیں یاد کہ گذشتہ مدت میں حضرت میر صاحب مرحوم و مغفور سے ملاقات کا کوئی موقع میسر آیا ہو۔اور اس وقت خوشی اور مسرت کے لہجہ میں باتوں باتوں میں مسکراتے مسکراتے اور حسب معمولی پاکیزہ مزاح کے پھول بکھیرتے بکھیرتے آپ نے اس قسم کا ذکر نہ فرمایا ہو کہ اب کو دُنیا سے دل سرد ہو گیا۔اب تو دنیا کی کوئی حسرت نہیں رہی۔اب تو موت کے لئے تیار ہوں۔اس پر چونک کر جب کہا جاتا ہے شک آپ کو دنیا میں رہنے کی ضرورت اور خواہش نہ ہو۔لیکن دنیا کو خاص کر جماعت کو آپ کی بے حد ضرورت ہے۔آپ ایسے الفاظ کیوں استعمال فرماتے ہیں۔تو گفتگو کا رخ اور طرف پھیر لیتے۔مرض الموت کے شدت اختیار کر لینے سے چند ہی روز قبل ایک ملاقات کے موقع پر فرمایلہ ایک اہم کام سرانجام دینے کے لئے میں نے خدا تعالیٰ سے کچھ مہلت مانگی تھی۔اب وہ دینی کام مکمل ہوگیا ہے اور میں موت کے لئے تیار ہوں۔آخر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تیاری تکمیل کو پہنچ ہی گئی۔اور اس نے اپنے ایک محبوب بندہ کے انتظار کی گھڑیاں ختم کر کے اسے ہمیشہ کی زندگی دے کر اپنے پاس بلا لیا۔جماعت کے لئے یہ نہایت شدید صدمہ اور بہت بڑا جھٹکہ ہے لیکن ہر دردمند اور غم رسیده احمدی کے لئے ہی واجب ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون کے درد کے ساتھ کہے۔بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو جہاں بچپن سے لے کہ آخری دم تک غیر معمولی