مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 112 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 112

احسانات اور انعامات سے نوازا۔وہاں حضرت میر صاحب نے بھی اپنی زندگی کا ایک ایک اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس کی اطاعت اور اس کی مخلوق کی خدمت گزاری میں صرف کر دیا۔خدا تعالیٰ نے اس کے لئے آپ کو اہمیت بھی غیر معمولی عطا فرمائی تھی۔دین کا حقیقی علم بخشا۔اور اس کی اشاعت اور تبلیغ کا بہترین ملکہ دیا۔نظم ونشریں کا وہ اثر قوت ، شوکت اور دلکشی ودیعت کی کہ پڑھنے والے پر وجد طاری ہو جاتا۔پھر آمد اور روانی کا یہ حال کہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اُس کے تمام پہلوؤں کو نہایت آسان اور عام فہم الفاظ میں واضح کر کے رکھ دیا۔آپ اپنے بہترین اور بلند پایہ افکار اور مضامین سے ہمیشہ الفضل کو نوازا کرتے۔اور بکثرت نواز تھے۔الفضل بھی شکر گزاری کے ہاتھوں۔لیتا۔اور مفید ترین سمجھ کر شائع کرتا۔اس بارے میں آپ کی یہ خصوصیت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔کہ آپ نے کبھی کسی چیز کی اشاعت پر زور دیا تو الگ رہا۔معمولی سے تذکرہ بھی نہ کیا۔دیر سے اشاعت یا عدم اشاعت پر بھی کبھی برا نہ منایا۔حتی کہ اگر کبھی خود بخود معتدت کی گئی تو فرماتے کہ میرا کام لکھنا ہے۔اشاعت یا عدم اشاعت اخبار والوں کا کام ہے۔اور ان کا حق ہے جو مناسب سمجھیں۔کریں۔غرض آپ دینی مسائل کے متعلق بہترین کھنے والے اور بکثرت لکھنے والے تھے۔جس سے علم الادیان میں دسترس رکھنے اور خدا تعالٰی کی اس نعمت کا حق ادا کرنے کا ثبوت ملتا۔اس کے ساتھ ہی آپ کو خدا تعالیٰ نے علم الابدان بھی خصوصیت سے عطا فرمایا تھا۔اور دست شفا بخشا تھا۔اس انعام کا بھی آپ نے خوب خوب حق ادا کیا سینکڑوں نہیں ہزاروں اور ممکن ہے لاکھوں مریضیوں نے آپ کے ہاتھ سے شفا حاصل کی ہو۔ملازمت کے دوران میں بھی ہمیشہ آپ نے اپنے آرام بلکہ اپنی صحت پر مریضوں کے علاج اور ان کی دیکھ بھال کو مقدم رکھا۔اور جب رخصت لے کر قادیان تشریف لائے تو ٹھٹھ کے ٹھٹھر مریضوں کے ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتے اور آپ سارا سارا دن