مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 103
١٠٢ پیارے بندوں کی نظر محبت و نگاہ شفقت کبھی نہ کبھی مجھے جیسے غریب اور حقیر پر بھی پر جایا کرتی۔أحِبُّ الصَّالِحِينَ وَلَسْتُ مِنْهُمْ تحَلَّ اللَّهُ يَرْزُقَنى صَلَاحًا قرآنی حقائق کا فہم دقیق آپ کو عطا کیا گیا تھا۔آپ قرآنی معارف کے خواص تھے اور آپ کا فہم بس دقائق کی گہرائیوں میں دور تک نکل جاتا تھا۔۔۔روحانی تعلقات کے لحاظ سے بھی مجھے آپ سے گہرا تعلق تھا جس کا ثبوت ذیل کے ایک واقعہ سے بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خاکسار کو حد ہفتہ سے کچھ زائد عرصہ تک درد گرده کا شدید دوره ریاحین کا سلسلہ کسی قدر اب بھی چلا جا رہا ہے۔ہاں نسبتاً آج کل کچھ افاقہ ہی ہے اور یہ مضمون بھی بحالت علالت لکھا جارہا ہے۔۱۲-۱۳ جولائی کی درمیانی شب کو بوجہ شدید دوره درد گردہ کے مکیں سو نہ سکا اور شدت درد کے باعث آنکھ نہ لگی۔ہے۔اسی سلسلہ میں مجھ پر اچانک ایک ربودگی اور غنودگی کی کیفیت طاری ہوائی۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے کانوں کے بالکل قریب ہو کر کوئی کلام کرنے کے نہایت فصیح اور موثر لہجہ میں کلام کا طرز ہے۔اس وقت مجھے یہی محسوس کیا یا جا رہا تھا کہ یہ اللہ تعالی کی آواز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی علم اور رحم کے پیرایہ میں یوں کلام فرمایا۔میر محمد اسمعیل ہمارے پیارے ہیں۔اُن کے علاج کی طرف فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہم خود ہی ان کا علاج ہیں۔،، اس مبشرہ میں ایک امر تو حضرت میر صاحب کے لئے بطور بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا پیارا اور محبوب قرار دیا ہے۔دوسرے حضرت میر صاحب طیبی